راجستھان کے ارب پتی تاجروں کے سنسان محل اور حویلیاں - BBC News اردو

انڈیا کے سو امیر ترین لوگوں میں سے 25 فیصد کا تعلق اس گاؤں سے ہے

25/01/2022 10:49:00 AM

انڈیا کے سو امیر ترین لوگوں میں سے 25 فیصد کا تعلق اس گاؤں سے ہے

شیکھاوتی میں یہ حویلیاں اور رنگ بھری دیواریں بیسویں صدی کی شروعات تک کافی مقبول رہیں۔ لیکن جب بیوپاری اور تاجر برادری نے تیزی سے ترقی کرتے شہر جیسا کہ ممبئی اور کولکتہ کا رخ کیا تو فن کے یہ اثاثے دھول چاٹتے رہ گئے۔

مہا بھارت اور راماین جیسے قدیم ہندو واقعات پر مبنی یہ تصاویر، پھولوں اور خوبصورت ڈیزائنوں کے ہمراہ دیواروں پر لٹکائی جاتیں۔ ان پینٹگز کو بنانے کے لیے سب سے پہلے جےپور میں فنکاروں سے رابطہ کیا گیا۔لیکن پھر دیواروں میں رنگ بھرنے کے تیزی سے پھیلتے رواج کو دیکھتے ہوئے شیکھاوتی میں کمہار برادری نے اس فن کو سیکھا اور دیکھتے ہی دیکھتے مختلف گاؤں میں منفرد طرز دیکھنے میں آئے۔

،تصویر کا ذریعہNeelima Vallangiہمیں یہ نہیں معلوم کہ یہ ڈیزائن انھوں نے خود بنائے تھے یا پھر انھیں بنوانے والوں نے ان سے ایسا کرنے کو کہا۔19ویں صدی سے پہلے تک روایتی طور پر رنگ معدنی ذرائع اور سبزیوں سے بنائے جاتے تھے۔ جس میں گہرے سرخ، میرون، جامنی اور نیلے رنگ شامل تھے۔ اس کے علاوہ پیلا رنگ بھی بہت مقبول تھا جو کہ گائے کے پشاب سے بنایا جاتا۔

مزید پڑھ: BBC News اردو »

Petrol Price Quetta People Angry Reaction | Petrol Rate Today in Pakistan | Breaking News

Petrol Price Quetta People Angry Reaction | Petrol Rate Today in Pakistan | Breaking News#PetrolPrice #Quetta #BreakingNews #BOLNewsBreaking News | Latest Ne... مزید پڑھ >>

can u please publish a headline on bbcurdu website about Transparency International report about Pakistan ? Are you sincere with Pakistan ?

’سروگیسی کے حوالے سے میری ٹویٹس پرینکا اور نِک جونس کے متعلق نہیں‘ - BBC News اردوحال ہی میں انڈین اداکارہ پرینکا چوپڑا اور نِک جونس کے ہاں سروگیسی کے ذریعے بچی کی پیدائش ہوئی ہے اور بہت سے صارفین کا خیال ہے کہ تسلیمہ نسرین کی ٹویٹس کا نشانہ پرینکا چوپڑا اور نِک جونس ہی ہیں کیونکہ انھوں نے یہ ٹویٹس پرینکا اور نک جونس کی جانب سے اپنی بچی کی پیدائش کے اعلان کے فوراً بعد کی ہیں۔

سعودی عرب: مچھلی کے کاروبار کے سب سے بڑے جزیرے کا افتتاحجزیرے کے قیام کی لاگت 80 ملین ریال جبکہ رقبہ 120,000 مربع میٹر ہے SamaaTV

آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے حوالے سے بڑی خبر10:18 AM, 25 Jan, 2022, کھیل, سڈنی: پاکستان میں شائقین کرکٹ  کو آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے  دورہ  کا بے صبری سے انتظار ہے ، تاہم اب   اس

دولہے کے تھپڑ کے بعد دلہن نے اپنے کزن سے شادی کرلینئی دہلی (ویب ڈیسک)  بھارت میں دولہے نے کزن کے ساتھ ڈانس کرنے پر اپنی دُلہنیا کو تھپڑ رسید کردیا جس کے بعد شادی منسوخ ہوگئی مگر دُلہن نے اگلے ہی روز اُس

آرمی چیف کی مراکش کے سفیر سے ملاقات۔۔باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیالآرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ سےمراکش کےسفیرکی ملاقات۔ دونوں اعلیٰ شخصیات کے درمیان باہمی دلچسپی اور سیکورٹی تعاون کےامورپرتبادلہ خیال۔

خانپور کا مشہور اور لذیذ ریڈ بلڈ مالٹا اور شکری مسمی باغات میں تیار

وہ محل جہاں ٹی وی اشتہار بنانے والے ہی جاتے ہیں مہا بھارت اور راماین جیسے قدیم ہندو واقعات پر مبنی یہ تصاویر، پھولوں اور خوبصورت ڈیزائنوں کے ہمراہ دیواروں پر لٹکائی جاتیں۔ ان پینٹگز کو بنانے کے لیے سب سے پہلے جےپور میں فنکاروں سے رابطہ کیا گیا۔ لیکن پھر دیواروں میں رنگ بھرنے کے تیزی سے پھیلتے رواج کو دیکھتے ہوئے شیکھاوتی میں کمہار برادری نے اس فن کو سیکھا اور دیکھتے ہی دیکھتے مختلف گاؤں میں منفرد طرز دیکھنے میں آئے۔ ،تصویر کا ذریعہ Neelima Vallangi ہمیں یہ نہیں معلوم کہ یہ ڈیزائن انھوں نے خود بنائے تھے یا پھر انھیں بنوانے والوں نے ان سے ایسا کرنے کو کہا۔ 19ویں صدی سے پہلے تک روایتی طور پر رنگ معدنی ذرائع اور سبزیوں سے بنائے جاتے تھے۔ جس میں گہرے سرخ، میرون، جامنی اور نیلے رنگ شامل تھے۔ اس کے علاوہ پیلا رنگ بھی بہت مقبول تھا جو کہ گائے کے پشاب سے بنایا جاتا۔ سنہ 1860 کے اوائل میں مصنوعی رنگ استعمال ہونا شروع ہو گئے جو کہ نہ صرف سستے تھے بلکہ ان میں اور بھی نت نئے قسم کے رنگ آنے لگے۔ 20ویں صدی شروع ہونے کے ساتھ ہی فریسکوز یا دیواروں میں رنگ بھرنے کے عمل میں یورپی طرز کے اور جدید ڈیزائن نظر آنے لگے۔ جو بیوپاری گھوم پھر کر آتے وہ اپنی یاداشتیں پینٹروں کو بتاتے جو کہ انھیں پینٹنگ کی صورت میں تخلیق کرتے۔ بعض اوقعات رنگ سازوں کو بھی بیرونِ ملک بھیجا گیا تاکہ وہ وہاں کے منظر دیکھ کر انھیں اپنی تخلیق میں شامل کریں لیکن ایسا بہت کم ہوتا تھا۔ شیکھاوتی میں ملکہ ایلزبتھ، مسیحی مذہب سے متعلق تصاویر، بھاپ سے چلنے والی ٹرینوں کے انجن اور عجیب و غریب ایجادات کو افسانوی کہانیوں کے ساتھ ملا کر اُن کے ڈیزائن بنائے گئِے۔ ،تصویر کا ذریعہ Neelima Vallangi شیکھاوتی میں یہ حویلیاں اور رنگ بھری دیواریں 20ویں صدی کی شروعات تک کافی مقبول رہیں۔ لیکن جب بیوپاری اور تاجر برادری نے تیزی سے ترقی کرتے شہر جیسا کہ ممبئی اور کولکتہ کا رخ کیا تو فن کے یہ اثاثے دھول چاٹنے لگے۔ آہستہ آہستہ تمام کاروباری سرگرمیاں شیکھاوتی میں ختم ہو گئیں اور یہ حویلیاں ہمیشہ کے لیے سنسان و ویران رہ گئیں۔ انڈیا کی تاجر برادری کے بہت بڑے نام جن کا آج دنیا بھر میں چرچا ہے، کا تعلق شیکھاوتی کے گاؤں دیہات سے تھا۔ ان میں لکشمی متل، کیمار برلا، اجے پیرامل اور بنود چوہدری جیسے نام شامل ہیں۔ بزنس جریدے فوربز کے مطابق انڈیا کے سو امیر ترین لوگوں میں سے 25 فیصد کا تعلق شیکھاوتی سے ہے۔ 1950 کی دہائی میں جن قصبوں میں انڈیا کے ارب پتی پلے بڑھے، وہ آہستہ آہستہ خستہ حالی کا شکار ہو رہے تھے۔ اتنے بڑے بنگلوں کو فروخت کرنا یا ان کی مرمت کروانے میں نہ صرف بہت زیادہ رقم بلکہ وقت بھی خرچ ہوتا ہے۔ ان گھروں میں سے کچھ تو اتنے بڑے تھے کہ ان میں ایک وقت میں پچاس خاندان رہ سکتے تھے۔ ان کی دیکھ بھال کا خرچہ بہت زیادہ ہے اور ان میں بہت سے گھر ایسے ہیں جو کہ مختلف خاندانوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ،تصویر کا ذریعہ Neelima Vallangi ایسے میں ان لوگوں کے درمیان ان گھروں کو حاصل کرنے کے لیے قانونی مسئلے بھی چل رہے ہیں۔ اور یہ حویلیاں نجی جائیداد ہیں تو انھیں محفوظ رکھنے میں حکومت بھی کچھ نہیں کر سکتی۔ خوش قسمتی سے ان حویلیوں کی خوبصورتی اور ثقافتی اہمیت کا علم بہت سے لوگوں کو ہے۔ سنہ 1999 میں فرانس سے تعلق رکھنے والی پینٹر ناڈین لی پرنس نے 1802 میں فتح پور میں بنائی گئی نند لال دیورا حویلی کو خریدا اور بڑی مشکل سے اس کی مرمت کروا کر اسے اپنی اصل حالت میں واپس لائیں۔ پاس ہی موجود دنلود اور ناوالگڑھ کے گاؤں میں سیٹھ ارجن داس گوئنکا حویلی اور شری جئے رام داس جی کے خاندانی محل کو عام عوام کے لیے عجائب گھر میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ مالجی کا کمرہ، کولوال کوٹھی اور کاسل منڈاوا جیسی حویلیوں کو ثقافتی ہوٹلوں میں بدل دیا گیا۔ بہت سی حویلیاں شاید ٹھوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر زمیں بوس ہو جائیں لیکن ان کی شان و شوکت دوسری حویلیوں کے ذریعے ہمیشہ قائم رہے گی۔ متعلقہ عنوانات