Delhiviolence

Delhiviolence

دلی ہنگامے: ہلاکتوں کی تعداد 13، 20 افراد گرفتار

#DelhiViolence: دلی میں ہنگامے، ہلاکتوں کی تعداد 13 ہو گئی، 20 افراد گرفتار

26/02/2020 6:43:00 AM

DelhiViolence: دلی میں ہنگامے، ہلاکتوں کی تعداد 13 ہو گئی، 20 افراد گرفتار

نئی دہلی کے شمال مشرقی مسلم اکثریتی علاقوں میں پرتشدد واقعات میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 13 ہو گئی ہے جبکہ شہریت کے متنازع قانون کے مخالفین اور حامیوں کے مابین جھڑپوں میں 150 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

BBC URDU کی فیس بک پر پوسٹ سے آگے جائیںمنگل کو وزیر داخلہ امیت شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں دہلی فسادات میں پولیس کے رویے پر سوالات اٹھائے گئے۔ وزارت داخلہ کے اجلاس میں جانے سے پہلے، دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ ’تشدد زدہ علاقوں میں پولیس فورس کم ہے اور پولیس کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ کارروائی کرے، لاٹھی چارج کرے یا ہوائی فائر کرے۔ اوپر سے آرڈر نہیں مل رہے ہیں۔‘

عمران خان کا مارک زکربرگ کو خط، اسلام مخالف مواد پر پابندی کی گزارش - BBC News اردو Sawal with Ehtesham Amir-ud-Din | SAMAA TV | 25 October 2020 وزیراعظم کا فیس بک انتظامیہ سے اسلام مخالف مواد پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’بہت سارے لوگ باہر سے آ رہے ہیں، سرحد کو سیل کرنے اور انھیں حفاظتی تحویل میں لینے کی ضرورت ہے۔‘وزیراعلیٰ کیجریوال نے کہا کہ ’تمام مذاہب کے لوگوں کو امن ملاقاتیں کرنی چاہییں، مقامی ارکان اسمبلی کو بھی ان میں موجود ہونا چاہیے۔‘بی بی سی کی ٹیم نے کیا دیکھا

منگل کی شام بی بی سی ہندی کے نمائندے فیصل محمد علی جب شمالی دہلی کے تشدد سے متاثرہ علاقے میں کوریج کے لیے پہنچے تو وہاں ہجوم نے ان سے وہ موبائل فون چھیننے کی بھی کوشش کی جس میں پُرتشدد واقعات کی ریکارڈنگ موجود تھی۔فیصل محمد علی کے مطابق ہجوم میں شامل افراد نے ان پر پتھراؤ بھی کیا اور اسی دوران انھوں نے ایک شخص کو ہاتھ پر کپڑا باندھے گلی سے نکلتے دیکھا جس کے بارے میں عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ اس شخص کے ہاتھ میں گولی لگی تھی اور کسی نے سڑک کے دوسری طرف چھت سے اسے گولی مار دی تھی۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس وقت شمال مشرقی دہلی کو دیکھیں تو جیسے ’شہر بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہے۔‘بی بی سی کی ٹیم منگل کی صبح بھی جعفر آباد کے متاثرہ علاقوں میں گئی تھی۔ اس علاقے کے لوگوں نے ایک پوری مارکیٹ کو آگ لگا دی تھی ایک مقامی شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ ان دکانوں میں زیادہ تر مسلم برادری کی ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق جلتے ہوئے بازار سے اٹھتی ٹائروں کی بو اور دھوئیں کو دور سے دیکھا جاسکتا تھا لیکن انھیں اس پورے واقعے کو کیمرے پر ریکارڈ کرنے کے میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ان کا کہنا ہے کہ علاقے سے لگ بھگ 500 میٹر دور کچھ نوجوان دکانوں پر پتھر پھینک رہے تھے اور جب انھوں نے دیکھا کہ ان کی حرکات کیمرے پر ریکارڈ ہو رہی ہیں تو پتھراؤ کا رخ صحافیوں کی طرف ہو گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹEPAاسی دوران بی بی سی کی ٹیم نے جے شری رام کے نعرے بھی سنے۔ فیصل محمد علی کے مطابق ’بہت ساری جگہوں پر ہم نے 100 سے 200 افراد کا ہجوم دیکھا۔ان میں سے کچھ لوگوں کے ہاتھوں میں ترنگا تھا، لوگ جے شری رام ، بھارت ماتا کی جے ، وندے ماترم جیسے نعرے بلند کررہے تھے۔ اس ہجوم میں شامل کچھ افراد 'ملک کے غداروں کو گولی مارو' جیسے نعرے بھی لگا رہے تھے۔‘

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ’اسی وقت کچھ مسلمان لڑکے بھی محلوں کی گلیوں میں کھڑے تھے جن کے ہاتھوں میں لوہے کی سلاخیں اور ایسی دوسری چیزیں اٹھائے ہوئے دیکھا گیا تھا۔‘ایک مقامی رکشہ ڈرائیور گلشن کا کہنا تھا کہ ’انتظامیہ نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے ہمیں لڑنے اور جان دینے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔‘

مریم نواز کو بلوچی لباس کس نے تحفے میں دیا کوئٹہ جلسہ: نواز شریف کے تین نکات کوئٹہ کی جلسی میں جھنڈے زیادہ، بندے کم ہیں، بابر اعوان | Abb Takk News

1984 کے سکھ فساداتسےموازنہراجیو نگر کی رہائشی کمیٹی کے جنرل سکریٹری اسلام الدین کا کہنا ہے کہ ’کچھ بیرونی لوگ ہندوؤں اور مسلمانوں کے مابین تنازعات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘۔اسلام الدین نے ان حالات کا موازنہ 1984 کے سکھ فسادات سے کیا جب پوری دہلی میں بڑے پیمانے پر تشدد دیکھا گیا تھا۔

ان کا خیال ہے کہ جب بی جے پی رہنما کپل مشرا اشتعال انگیز بیان دے رہے تھے تب ان کے خلاف اقدامات کیے جاتے تو معاملات ہاتھ سے نہیں نکلتے۔کپل مشرا عام آدمی پارٹی کے پہلے ایم ایل اے تھے۔ لیکن اب وہ بی جے پی کے رکن ہیں اور اپنے تندو تیز بیانات کے لیے جانے جاتے ہیں۔ انھوں نے گذشتہ اتوار کو پولیس کو الٹی میٹم دیا تھا کہ ظفرآباد کے علاقے میں ایک مرکزی سڑک کو اگلے تین دن میں خالی کرا لیا جائے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ مشرا کا یہ بیان مبینہ طور پر دہلی میں تشدد کو ہوا دینے کی وجہ بنا۔شمالی دہلی سے بی جے پی کے رکن پارلیمان گوتم گمبھیر کپل مشرا کے بیانات سے متفق نہیں لیکن اس کے باوجود پارٹی اور پولیس کی طرف سے کپل مشرا کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

منگل کی رات بھی کپل مشرا نے ایک ویڈیو ٹویٹ کی جس میں لکھا تھا ’ظفر آباد خالی ہے، دہلی میں کوئی اور شاہین باغ نہیں ہو گا۔‘اس سے کئی گھنٹے قبل انھوں نے ایک اور ٹویٹ میں کہا تھا ’مجھے جان سے مارنے کی دھمکی دی جا رہی ہے۔ بند سڑکیں کھولنے کے لیے مطالبہ کرنا جرم نہیں۔ سی اے اے کی حمایت کوئی جرم نہیں ہے۔‘

مزید پڑھ: BBC News اردو »

عمران خان فوج سمیت ملک کے تمام اداروں کو ٹائیگر فورس بنانا چاہتے ہیں، بلاول - ایکسپریس اردو

جمہوریت کی بحالی کی تحریک پی ڈی ایم چل رہی ہے، چیئرمین پیپلزپارٹی

Afsos آپ کا چینل اتنا بے شرم و جانبدار ہے سوچا نہیں تھا آپ سچ کیوں نہیں لکھ رہے ہندو مسلمانوں کو مار رہے ہیں؟ اگر یہ تیرا ہزار بھی ہو جائے نا پھر مودی کا کلیجہ ٹھنڈا نہیں ہونا کیونکہ ایک شرپسند کی حکومت میں یہ پریشان کن نہیں . Hindu nationalism is growing up. It is very dangerous for whole india. اللہ تعالی سب کو اپنی امان میں رکھے ۔

مظلوم کو جتنا ماریں گے وہ زیادہ طاقت سے بدلہ لے گا. DelhiBurning خدا پاک سب کو اپنی امان میں رکھے بہت زیادتی ھے۔ True report

نئی دہلی میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکشنئی دہلی: (دنیا نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کر دی۔

سزائے موت کے فیصلے کیخلاف پرویز مشرف کی اپیل کی سماعت کھلی عدالت میں ہوگیسزائے موت کے فیصلے کیخلاف پرویز مشرف کی اپیل کی سماعت کھلی عدالت میں ہوگی مزید پڑھیئے: AajNews AajUpdates

خیبرپختونخواکابینہ کی صوبے میں تحفظ اطفال کی 7عدالتوں کے قیام کی منظوریخیبرپختونخواکابینہ کی صوبے میں تحفظ اطفال کی 7عدالتوں کے قیام کی منظوری KPK ChiefMinisterKPK MehmoodKhan CabinetMeeting ChildProtectionCourts SpecialPolice Pension

صدر اردوان کی لیبیا میں 2 ترک فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق - ایکسپریس اردودنیا میں قیام امن کیلیے ترک فوجی اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں، ترک صدر

جمہوریہ کوریا،کرونا وائرس کے مزید 60 نئے مریضوں کی تصدیق،مجموعی تعداد 893 ہو گئیجمہوریہ کوریا،کرونا وائرس کے مزید 60 نئے مریضوں کی تصدیق،مجموعی تعداد 893 ہو گئی RepublicOfKorea Coronavirus CasesReported InfectiousDisease SpreadRapidly DeadlyVirus

جرمنی میں گاڑی مجمعے پر چڑھانے کا معاملہ، زخمیوں کی تعداد 52 ہوگئیجرمنی میں گاڑی مجمعے پر چڑھانے کا معاملہ، زخمیوں کی تعداد 52 ہوگئی Germany CarnivalParade 52People Killed CarAccident