جے آئی ٹی رپورٹ: عزیر بلوچ کے حکم پر کراچی میں پولیس تبادلوں کا انکشاف، آصف زرداری کا ذکر شامل نہیں

عزیر بلوچ جے آئی ٹی رپورٹ: آصف زرداری کا ذکر شامل نہیں، ارشد پپو سمیت 198 قتل کے واقعات میں ملوث ہونے کا انکشاف

04/07/2020 11:52:00 AM

عزیر بلوچ جے آئی ٹی رپورٹ: آصف زرداری کا ذکر شامل نہیں، ارشد پپو سمیت 198 قتل کے واقعات میں ملوث ہونے کا انکشاف

رپورٹ میں عزیر بلوچ کے حوالے سے یہ لکھا گیا ہے کہ وہ کامیابی سے اپنی مرضی کے پولیس افسران کے تبادلے کراتا رہا مگر یہ تفصیلات شامل نہیں ہیں کہ یہ تبادلے کس شخصیت کی منظوری سے ہوتے رہے۔

AFPImage captionرپورٹ میں عزیر بلوچ کے حوالے سے یہ لکھا گیا ہے کہ وہ کامیابی سے اپنی مرضی کے پولیس افسران کے تبادلے کراتا رہا مگر یہ تفصیلات شامل نہیں ہیں کہ یہ تبادلے کس شخصیت کی منظوری سے ہوتے رہےعزیر بلوچ کے بارے میں انکشافاتپاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں خوف کی علامت عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی میں ایکشن، تھرل، سپنس سب کچھ ہی ہے جو اس کے بیان کو بالی ووڈ ایکشن مووی کا اسکرپٹ بنا دیتی ہے۔

مسجد وزیرخان میں ناچ گانے کے ذمے داروں کو فوری گرفتار کیا جائے، چوہدری برادران - ایکسپریس اردو PML-Q leaders lead condemnation of dancing video in mosque بیروت دھماکے پر لبنان کی وزیر اطلاعات سمیت 6 ارکان اسمبلی مستعفی - ایکسپریس اردو

’پولیس موبائیلوں میں سوار پولیس افسر اور گینگسٹر نے تین لوگوں کو اغوا کیا، ان تین لوگوں کا ایک گدام میں قتل کرکے ان کی لاشوں کو آگ لگا دی اور باقیات گٹر میں پھینک دیں۔‘خیال رہے کہ یہ بالی ووڈ کی انڈر ورلڈ پر بنی ہوئی کسی فلم کا سین نہیں ہے بلکہ لیاری امن کمیٹی کے سربراہ عزیر جان بلوچ کا اعترافی بیان ہے، جو اس نے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کو دیا۔

جن تین لوگوں کو قتل کیا گیا ان میں ارشد پپو اور اس کے دو ساتھی شامل تھے۔ ان پر عزیر بلوچ کے والد کے قتل کا الزام تھا۔پولیس کے ساتھ پاکستان کے انٹیلیجنس اداروں کے نمائندوں پر مشتمل جے آئی ٹی نے اپریل 2016 کو عزیر جان بلوچ کا بیان رکارڈ کیا تھا۔والد کے قتل کا بدلہ

جے آئی ٹی کے مطابق عزیر بلوچ 10 اکتوبر 1977 کو لیاری کے علاقے سنگو لائن میں پیدا ہوئے اور مقامی کالج سے انٹر تک تعلیم حاصل کی۔ عزیر سنہ 2000 میں اپنے والد فیض محمد بلوچ کے ٹرانسپورٹ کے کاروبار میں شامل ہوئے۔عزیر بلوچ نے جنرل پرویز مشرف کے پہلے بلدیاتی انتخابات میں 2001 میں لیاری کے ٹاؤن ناظم کا الیکشن لڑا لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔

عزیر کی زندگی میں اس وقت تبدیلی آئی جب سنہ 2003 میں ان کے والد فیض محمد بلوچ کو اغوا کے بعد قتل کردیا گیا اور بدلہ لینے کے لیے عزیر نے رحمان ڈکیت کے گینگ کو جوائن کر لیا۔عزیر بلوچ کے والد کے قتل کا الزام ارشد پپو گینگ پر آیا تھا۔تصویر کے کاپی رائٹSindh Poiice

Image captionارشد پپو کو لیاری کی گلیوں میں ایک مشتعل ہجوم نے مار مار کر ہلاک کیا تھاارشد پپو کا انجامعزیر بلوچ نے جے آئی ٹی کو بتایا ہے کہ اس نے پولیس کی مدد سے ارشد پپو کو مارکر اپنے والد کے قتل کا بدلہ لیا۔جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق سنہ 2013 کو 16 اور 17 مارچ کی شب تین پولیس انسپکٹروں، دیگر اہلکاروں اور اپنے کارندوں کے ساتھ ارشد پپو، یاسر عرفات، اور شیرا پٹھان کو اغوا کرلیا یہ واردات پولیس موبائیلوں کے ذریعے کی گئی جن کا انتظام انسپکٹر جاوید نے کیا تھا۔

جے آئی ٹی کو دیے گئے بیان میں عزیر نے بتایا کہ ان تینوں کو آدم ٹی گدام لے جایا گیا جہاں انھیں قتل کیا گیا اور ان کی لاشوں کو آگ لگا دی اور باقیات کو گٹر میں پھینک دیا گیا۔اپنے سب سے بڑے مخالف ارشد پپو کو راستے سے ہٹانے کے بعد عزیر بلوچ خود لیاری کا کنگ بن گیا۔ جے آئی ٹی کے مطابق عزیر سنہ 2006 سے لے کر سنہ 2008 تک مختلف الزامات میں سینٹرل جیل میں قید رہا۔

آٹھ سال سے انڈیا میں مقیم پاکستانی خاندان کے 11 افراد ہلاک - BBC News اردو ہولوگرام بیم ٹیکنالوجی کے ذریعے فوت شدہ افراد سے بھی ’تقریباً حقیقی ملاقات‘ ممکن - ایکسپریس اردو فیصل واوڈا کا احسن اقدام، رکشہ ڈرائیور کا دل جیت لیا، ویڈیو وائرل -

سنہ 2008 میں رحمان ڈکیت کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد عزیر بلوچ نے گینگ کی کمان سنبھالی اور پیپلز امن کمیٹی کی بنیاد رکھی۔قتل کے 198 واقعاتجے آئی ٹی کے مطابق عزیر بلوچ نے بلواسطہ یا بلاواسطہ قتل کے 198 واقعات میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ ان ہلاک ہونے والوں میں گینگ وار کے علاوہ لسانی اور سیاسی بنیادوں پر کیے گئے قتل بھی شامل ہیں۔

عزیر بلوچ نے بتایا کہ سنہ 2012 کو ڈالمیا سے حاجی اسلم اور اس کے دو بیٹوں کو طلب کیا اور انھیں بابا لاڈلہ کے حوالے کیا تاکہ منشیات فروش حنیف بلوچ کے قتل کا بدلہ لے سکیں بعد میں اس کے ساتھیوں نے تینوں کو قتل کرکے لاش نامعلوم جگہ پر دفنا دی۔کباڑیمارکیٹمیں ہونے والی ہلاکتوں کا اعتراف

عزیر بلوچ نے شیرشاہ کباڑی مارکیٹ میں حملے اور ہلاکتوں کا بھی اعتراف کیا ہے۔ خیال رہے کہ 11 تاجروں کے قتل کے بعد شہر میں ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی تھی اور تشدد کے واقعات میں مزید چودہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔عزیر بلوچ نے جے آئی ٹی کو بتایا ہے کہ 19 اکتوبر 2010 کو کباڑی مارکیٹ میں اس کے کارندوں جبار لنگڑا، نثار، فدا اور دیگر نے ایک سیاسی جماعت کے 11 ہمدردوں کو قتل کیا تھا، جو اسی جماعت کو چندہ دیتے تھے۔

مزید پڑھ: BBC News اردو »

چین کے ساتھ کشیدگی کے دوران نریندر مودی کے لیہ دورے کے کیا معنی ہے؟چین اور انڈیا کی فوجوں کے درمیان 15 اور 16 جون کی درمیان شب دست بدست لڑائی میں 20 انڈین فوجیوں کی ہلاکت کے بعد جمعہ کو وزیر اعظم نریندر مودی نے لداخ کے علاقہ لیہ کا اچانک دورہ کیا۔

اگر آپ ابھی بھی کنوارے ہیں تو سائنسدانوں کے یہ خیالات آپ کے لیے ہیںنیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) مردوخواتین شادی کے لیے شریک حیات کا انتخاب کرتے وقت کون سی باتیں مدنظر رکھتے ہیں؟ ہر کسی کی نظر میں اس سوال کا مختلف جواب ہو گا مگر اب

عثمان بزدار سے ن لیگ کے 6 اور پیپلزپارٹی کے ایک رکن کی ملاقات

جسٹن ٹروڈو کے گھر کے باہر سے مسلح شخص گرفتارکینیڈا کی پولیس نے اوٹاوا کے انتہائی حساس علاقے میں داخل ہونے اور وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی رہائش تک پہنچنے والے ایک مسلح شخص کو گرفتار کیا ہے SamaaTV

چین کی ہانگ کانگ کے باشندوں کو شہریت کی پیشکش کے برطانیہ کے فیصلے کی مذمتچین کی ہانگ کانگ کے باشندوں کو شہریت کی پیشکش کے برطانیہ کے فیصلے کی مذمت China HongKongProtests

'رپورٹ پرمزید کام کررہےہیں، چاہتےہیں کہ کوئی عدالت سے اسٹے نہ لے' - Pakistan - Aaj.tv