جھلستے ہاتھ، لڑکھڑاتی سانسیں: کنری کی مرچ منڈی کے محنت کشوں کا احوال

جھلستے ہاتھ، لڑکھڑاتی سانسیں: کنری کی مرچ منڈی کے محنت کشوں کا احوال #ARYNewsUrdu

22/10/2021 1:21:00 PM

جھلستے ہاتھ، لڑکھڑاتی سانسیں: کنری کی مرچ منڈی کے محنت کشوں کا احوال ARYNewsUrdu

سرخ مرچ کی منافع بخش فصل سندھ کے مختلف علاقوں اور جنوبی پنجاب کے کچھ حصوں میں بھی اگائی جاتی ہے تاہم کنری کو اس حوالے سے مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

22 اکتوبر 2021صوبہ سندھ کا علاقہ کنری سرخ مرچوں کی کاشت کے لیے مشہور ہے اور یہاں لگنے والی منڈی ایشیا کی بڑی مرچ منڈیوں میں سے ایک ہے، تاہم مرچ کے کھیتوں اور منڈی میں کام کرنے والے کاشت کاروں اور تاجروں کی زندگی اتنی آسان نہیں۔سرخ مرچوں کی کاشت کے لیے مشہور کنری، ضلع عمر کوٹ میں ہے جو ملک بھر میں فراہم کی جانے والی مرچ کا 85 فیصد پیدا کرتا ہے، یہ منافع بخش فصل سندھ کے دیگر مختلف علاقوں اور جنوبی پنجاب کے کچھ حصوں میں بھی اگائی جاتی ہے تاہم کنری کو اس حوالے سے مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

ایک اندازے کے مطابق کنری میں 80 سے 90 ہزار ایکڑ رقبے پر مرچ کاشت کی جاتی ہےایک زمانے میں کنری میں لگنے والی منڈی کو ایشیا کی سب سے بڑی مرچ منڈی ہونے کا اعزاز بھی حاصل تھا، یہاں لگنے والی فصل ملک کی جی ڈی پی میں 1.5 فیصد کی حصے دار ہے۔سرخ مرچ کی فصل اگست سے تیار ہونا شروع ہوتی ہے اور اکتوبر تک یہ سرخ ہو کر مکمل طور پر تیار ہوجاتی ہے۔ کھیتوں سے چنائی کے بعد اسے منڈی لے جایا جاتا ہے جہاں اس کی نیلامی اور فروخت ہوتی ہے، یہ سلسلہ جنوری یا فروری تک جاری رہتا ہے۔

اپنے تیکھے پن کی وجہ سے ملک بھر میں کنری کی مرچ کی طلب زیادہ ہےکنری کی مرچ اپنے تیکھے پن کی وجہ سے ملک بھر میں مشہور ہے اور اسی تیکھے پن کی وجہ سے اس کی طلب اور قیمت دیگر علاقوں میں اگنے والی مرچ سے زیادہ ہے، تاہم اس کی وہ قیمت نگاہوں سے اوجھل ہے جو اس فصل کے کاشت کاروں اور محنت کشوں کو ادا کرنی پڑتی ہے۔ headtopics.com

Stars say today could be a challenging day for newly married Libra couples

میرپور خاص اور کنری میں سرگرم عمل سماجی کارکن جاوید لغاری بتاتے ہیں کہ مرچوں کی چنائی اور اس کی تجارت محنت کشوں کی صحت پر نہایت سخت اثرات مرتب کرتی ہے۔ان کے مطابق کھیتوں سے مرچوں کی چنائی کا کام زیادہ تر خواتین کرتی ہیں، یہ محنت کش خواتین کھیتوں میں آتے ہوئے اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے آتی ہیں جن میں شیر خوار بچے اور بڑی عمر کے بچے بھی شامل ہوتے ہیں۔

فصلوں سے اتارنے کے بعد مرچوں کو سکھایا جاتا ہےبچوں کی نازک جلد مرچوں کا تیکھا پن برداشت نہیں کر پاتی لہٰذا بچے مختلف جلدی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیںِ، عموماً ان کی جلد پر زخم بن جاتے ہیں جو نہایت تکلیف دہ ہوتے ہیں۔مرچیں توڑنے والی خواتین بھی مختلف طبی مسائل کا شکار ہوتی ہیں جن میں ہاتھوں اور چہرے پر جلن، خراشیں اور پھر ان کا زخم بن جانا، کھانسی اور گلے کی خراش عام مسائل ہیں۔

شہر کے وسط میں واقع مرچ منڈیچنائی کے بعد مرچیں نیلامی اور فروخت کے لیے منڈی میں لائی جاتی ہیں جو شہر کے وسط میں واقع ہے۔ صوبائی محکمہ زراعت کے ڈپٹی ڈائریکٹر نہال دیپ کا کہنا ہے کہ آج سے 4 دہائیاں قبل جب یہ منڈی قائم کی گئی اس وقت کنری شہر میں اتنی آبادی نہیں تھی۔ لیکن آہستہ آہستہ آبادی بڑھتی گئی جس کے بعد اب یہ منڈی شہر اور آبادی کے وسط میں آچکی ہے۔

معروف بھارتی اداکارہ کا نواز شریف کیلئے تحفہ حیران کن انکشاف

جاوید لغاری بتاتے ہیں کہ منڈی میں لائے جانے کے بعد جیسے جیسے مرچیں سوکھتی جاتی ہیں ویسے ویسے ان کا تیکھا پن شدید اور نقصانات میں اضافہ ہوتا جاتا ہے، پورے شہر کی فضا میں تیکھا پن اور دھانس موجود ہوتی ہے جو لوگوں کے لیے عذاب بن جاتی ہے۔کنری کی مرچ منڈی ایشیا کی بڑی مرچ منڈیوں میں سے ایک ہے headtopics.com

ان کے مطابق جن دنوں مرچ کی فصل عروج پر ہو ان دنوں اس کی دھانس اس قدر شدید ہوتی ہے کہ آس پاس کے دکاندار اپنی دکانیں بند رکھتے ہیں جبکہ شہریوں کا سانس لینا دو بھر ہوجاتا ہے۔ نہ صرف منڈی کے آس پاس کی آبادیاں بلکہ پورا شہر ہی مجموعی طور پر مختلف مسائل کا شکار ہوجاتا ہے۔

جاوید لغاری کا کہنا ہے کہ اس کاروبار سے منسلک محنت کشوں کو مختلف سانس کے اور جلدی مسائل عام ہیں، سانس کی نالیوں میں زخم ہو جانا، کھانسی، پھیپھڑوں کی خرابی، دمہ، جلد پر جلن، خراشیں اور زخموں کا بن جانا عام امراض ہیں۔تمام امراض کے علاج کے لیے ایک اسپیشلسٹ

پی ایس ایل کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب آج ہوگی

کنری تعلقہ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) ڈاکٹر مبارک علی درس کہتے ہیں کہ مرچ کی چنائی کے سیزن میں شہر بھر میں مختلف امراض میں اضافہ ہوجاتا ہے، ان دنوں پورے شہر کی فضا میں مرچ کی دھانس ہوتی ہے اور خصوصاً منڈی کے قریب رہنے والے افراد نہایت تکلیف دہ صورتحال کا شکار ہوجاتے ہیں۔

ڈاکٹر مبارک کے مطابق ان دنوں بزرگ، بچے اور ایسے افراد جو پہلے ہی سانس کے مسائل کا شکار ہوں ان کی تکلیف بڑھ جاتی ہے، ایسے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے جنہیں سانس کے مسائل، کھانسی اور آنکھوں اور جلد پر جلن کی شکایات ہوں۔ اسی طرح مرچ کے کاروبار سے وابستہ افراد بھی جسم پر زخموں کی تکلیف کے ساتھ کنری کے واحد سرکاری اسپتال کا رخ کرتے ہیں۔ headtopics.com

انہوں نے بتایا کہ یہی تمام طبی مسائل چھوٹے بچوں کو بھی لاحق ہوجاتے ہیں اور کمزور قوت مدافعت کی وجہ سے وہ زیادہ شدت سے ان کا شکار ہوتے ہیں۔مرچوں کی چنائی کا کام زیادہ تر خواتین کرتی ہیںڈاکٹر مبارک کے مطابق کنری میں صرف ایک ہی چیسٹ اسپیشلسٹ موجود ہے جو ضلعے کی تمام آبادی کے لیے ناکافی ہے، ان کے علاوہ علاقے میں آنکھوں یا جلد کا کوئی اسپیشلسٹ موجود نہیں۔

ایم ایس کا کہنا تھا کہ مرچوں کی دھانس سے متاثرہ مریض جب اسپتال آتے ہیں تو انہیں تاکید کی جاتی ہے کہ وہ خرابی طبیعت کی شدت سے بچنے کے لیے فیس ماسک کا استعمال کریں اور مرچوں کا کام کرنے والے دستانے ضرور پہنیں، ’لوگ سن کر اس پر ایک دو دن عمل کرتے ہیں، اس کے بعد تمام احتیاطی تدابیر کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں‘۔

نئی منڈی جو 14 سال سے زیر تعمیر ہےکنری کے رہائشی اور مرچ کے کاروبار سے منسلک عظیم میمن بتاتے ہیں کہ سنہ 2007 میں کنری شہر سے باہر نئی مرچ منڈی کی تعمیر کی منظوری دی گئی جس کے لیے فنڈ بھی جاری کیے گئے اور فوری طور پر تعمیر کا کام شروع کردیا گیا۔لیکن 14 برس گزر چکے ہیں اس منڈی کی تعمیر کا کام تاحال ادھورا ہے، یہ منصوبہ میگا کرپشن کا شکار ہوچکا ہے۔

اس منڈی کی تعمیر کا ابتدائی مجموعی تخمینہ 16 کروڑ روپے تھا جو فوراً جاری کردیے گئے تھے، تاہم اس وقت منڈی کی تعمیر میں نہایت ناقص مٹیریل کا استعمال کیا گیا۔ اس کے بعد ہر کچھ عرصے بعد منڈی کی تعمیر کے لیے خطیر رقم کے فنڈز جاری کیے جاتے رہے۔سنہ 2017 میں نیب کراچی کے حکام نے منڈی کی تعمیر میں ہونے والی کرپشن کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا اور متعلقہ افسران سے پوچھ گچھ شروع کردی۔

عظیم میمن کا کہنا ہے کہ ان 14 سالوں میں منڈی کی تعمیر کے لیے 60 سے 70 کروڑ روپے جاری کیے جاچکے ہیں اور تاحال اس کی تعمیر مکمل ہونے کا کوئی امکان نہیں، اس دوران بنائی گئی چند دکانیں ناقص مٹیریل کے استعمال کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار بھی ہوچکی ہیں۔

مزید پڑھ: ARY News Urdu »

7 se 8 - Kiran Naz - SAMAATV - 26 JAN 2022

#SamaaHeadlinesToday #SamaaNews #LiveNews➽ Subscribe to Samaa News ➽ https://bit.ly/2Wh8Sp8➽ Watch Samaa News Live ➽ https://www.samaa.tv/live/Stay up-to-dat... مزید پڑھ >>

کئی روز کے مسلسل اضافے کے بعد آج ڈالر کی قیمت میں کمیکراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن )انٹر بینک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر کئی روز کے بعد آج ڈالر کی قیمت میں کمی دیکھنے میں آئی ہے دوسری جانب سٹاک مارکیٹ میں بھی

آرمی چیف سے نیٹو کے سینئر سول نمائندہ کی ملاقات افغانستان کی صورتحال پر گفتگوراولپنڈی : آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے نیٹو کے سینئر سول نمائندہ اسٹیفانو پونتیکورو نے ملاقات کی۔آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی، علاقائی

آرمی چیف سے نیٹو کے سینئر سول نمائندہ کی ملاقات افغانستان کی صورتحال پر گفتگوآرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے نیٹو کے سینئر سول نمائندہ اسٹیفانو پونتیکورو نے ملاقات کی۔آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی، علاقائی امن و

امریکی سفیر کی یہودی آباد کاروں کے فلسطینیوں پرحملوں کی مذمتامریکی سفیر کی یہودی آباد کاروں کے فلسطینیوں پرحملوں کی مذمت OccupiedPalestine PalestineUnderAttack PalestinianLivesMatter IsraeliCrimes IsraeliTerrorism TargetKilling UN LindaThomasGreenfield UN PalestinePMO DrShtayyeh USAmbUN IDF IsraeliPM

پاکستان کی مقبوضہ کشمیر میں 4 نوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل کی مذمتچینی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم پاکستانی طلبا پارلیمنٹ ہاوس میں دہائی ,دو سال سے یونیورسٹی میں واپس نہیں بھجوایا جارہا,وزراء سے ملاقاتیں کی ہیں کوئی توجہ نہیں دے رہا TakeBackPakStudentsToChina

پاکستان کی مقبوضہ کشمیر میں 4 نوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل کی مذمتاور یہاں پاکستان میں بھی ہوتے اور غیر قانونی گرفتاریاں بھی ہوتی ہیں لبیک کے کارکنوں کی گرفتاریاں اور شہادتیں اس کی مثال ہے