بیروت دھماکہ: 113 ہلاکتیں، چار ہزار زخمی، لبنان میں تین روزہ سوگ - BBC News اردو

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں منگل کی شام ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 113 تک پہنچ گئی ہے۔

05/08/2020 6:23:00 PM

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں منگل کی شام ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 113 تک پہنچ گئی ہے۔

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں منگل کی شام ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 113 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے چار ہزار سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق کی ہے جبکہ ملک میں تین روزہ سوگ منایا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی برادری کی جانب سے افسوسبین الاقوامی برادری کی جانب سے لبنان میں ہونے والے دھماکے پر تشویش اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔عالمی برادری کی جانب سے اس واقعے میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان پر لبنانی حکومت اور عوام سے اظہار افسوس کیا گیا ہے۔

لوگ اپنا بندوبست کرلیں ہم نے تجاوزات گرانی ہی گرانی ہیں، وزیرریلوے - ایکسپریس اردو راولپنڈی میں لیڈی پولیو ورکر پر نازیبا جملے کسنے والا ملزم گرفتار - ایکسپریس اردو افغانستان سےفوجیوں کا عجلت میں انخلا احمقانہ فیصلہ ہوگا

برطانیہ، امریکہ، جرمنی، اسرائیل اور ایران کے حکام نے اپنے پیغام میں مدد کی پیشکش بھی کی ہے۔جرمن سفارتخانے نے اس واقعے میں اپنے عملے کے زخمی ہونے کی تصدیق ٹوئٹر پر کی ہے جبکہ اقوام متحدہ کے امن مشن کے اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔امونیم نائٹریٹ کیا ہے؟بظاہر دھماکے کی وجہ بننے والی امونیم نائٹریٹ اطلاعات کے مطابق ایک بحری جہاز سے 2013 میں ضبط کی گئی تھی اور اسے گودام میں ذخیرہ کیا گیا تھا۔

امونیم نائٹریٹ متعدد مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہے لیکن زیادہ تر اسے زرعی شعبے میں کھادوں میں استعمال کیا جاتا ہے تاہم یہ آتشیں مواد کے طور پر بھی استعمال ہوتی ہے۔،تصویر کا ذریعہAFP،تصویر کا کیپشندھماکے سے قبل بندرگاہ میں متاثرہ مقام پر آگ لگی دیکھی گئی جس کے بعد ایک بڑا دھماکہ ہوا اور جائے حادثہ پر نارنجی رنگ کے بادل چھا گئے

جب اسے آگ کے قریب لے جایا جائے تو یہ پھٹ جاتی ہے اور اس مرکب سے زہریلی گیسوں کا اخراج ہوتا ہے جن میں نائٹروجن آکسائڈز اور ایمونیا شامل ہیں۔چونکہ یہ آگ پکڑتی ہے اس لیے اسے محفوظ رکھنے کے لیے سخت اصول و ضوابط وضع کیے جاتے ہیں۔ اس میں یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ جہاں اسے محفوظ رکھا جائے وہاں آگ لگنے کا خطرہ نہ ہو اس کے علاوہ وہاں کوئی پائپ، اخراج کے لیے راستے نہ ہوں جہاں یہ جمع ہو سکے۔

معاشی بحران اور سیاسی کشیدگی میں گھرا لبنانلبنان میں اس وقت سیاسی کشیدگی جاری ہے۔ حکومت کے خلاف زبردست عوامی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ عوام موجودہ معاشی بحران سے نمٹنے کے حکومتی فیصلوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔1975 سے 1990 تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے بعد لبنان میں آنے والا یہ بدترین معاشی بحران ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ حکومت سرحد پر اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی سے بھی نمٹ رہی ہے۔اسرائیل نے گذشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے حزب اللہ کی طرف سے لبنان کی جانب سے اسرائیلی سرحدوں میں گھسنے کی کوشش ناکام بنا دی۔،تصویر کا ذریعہEPA،تصویر کا کیپشنمتاثرہ علاقے میں امدادی کارروائیاں ابھی بھی جاری ہیں اور امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا

حریری کیس کی تفصیلات کیا ہیں؟یہ دھماکہ اس مقام کے قریب ہوا ہے جہاں سابق لبنانی وزیراعظم رفیق حریری سمیت 23 افراد فروری دو ہزار پانچ میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں اس وقت ہلاک ہوئے جب وہ اپنی گاڑی میں جا رہے تھے۔رفیق حریری ملک کے نامور سنّی سیاست دانوں میں سے ایک تھے۔ ان کی موت جس وقت ہوئی اس عرصے میں وہ شام کی طرف سے ملک میں 1976 سے تعینات کیے گئے فوجیوں کے انخلا کا مطالبہ کررہے تھے۔

'ایک دن ہر کوئی چینی ڈیجیٹل کرنسی استعمال کرے گا' - BBC News اردو سیاسی حل تک طالبان جنگ نہیں روکیں گے،زلمے خلیل زاد بابری مسجد گرائے جانے میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والے چہرے کون؟ - BBC News اردو

ان دھماکوں کے بعد اس وقت کی شام نواز حکومت کے خلاف زبردست مظاہرے ہوئے اور الزام سرحد پار قوتوں پر لگایا گیا۔ اس واقعے کے دو ہفتے کے اندر اندر حکومت مستعفی ہوگئی اور شام نے اپنی فوج کو واپس بلا لیا۔2007 میں اقوام ِمتحدہ نے ایک خصوصی ٹرائبیونل تشکیل دیا اور حزب اللہ کے چار اراکین پر قتل، دہشت گردی اور شدت پسندی کی فرد جرم عائد کی گئی۔

حزب اللہ نے اس مقدمے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے اور کہا ہے کہ یہ سیاسی طور پر غیر جانبدار نہیں۔ مزید پڑھ: BBC News اردو »

Sawal Awam Ka-part All-ep-24371-2020-09-26-Sawal Awam ka: 26 | Dunya News

Sawal Awam ka: 26 September 2020

بیروت میں دھماکے سے ہونے والی تباہی، تصاویر میں - BBC News اردولبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہونے والے زوردار دھماکے کے نتیجے میں جانی نقصان کے علاوہ عمارتیں اور املاک بھی تباہ ہوئیں۔

بیروت میں دو خوفناک دھماکوں میں 78 افراد جاں بحق، 4 ہزار سے زائد زخمی

بیروت دھماکہ: ’میں سمجھا کہ بس میں مرنے والا ہوں‘ - BBC News اردو’یہ سب مجھے سنہ 2000 کی یاد دلا رہا ہے جب اسرائیل لبنان پر بمباری کر رہا تھا اور میں وہیں متاثرہ علاقے کے قریب موجود تھا اور میں سمجھا تھا کہ میں مرنے والا ہوں ایسا ہی میں نے آج بھی محسوس کیا۔‘

بیروت میں دو خوفناک دھماکوں میں 78 افراد جاں بحق، 4 ہزار سے زائد زخمی

بیروت میں خوفناک دھماکا، سینکڑوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعاتبیروت: (ویب ڈیسک) لبنان کے دارالحکومت بیروت میں خوفناک دھماکا ہوا ہے جس کے باعث سینکڑوں افراد زخمی ہونے کی اطلاعات ہے۔

بیروت دھماکوں میں ہلاک افراد کی تعداد 78 ہو گئیلبنان کے وزیراعظم حسن دیاب نے تصدیق کی ہے کہ دھماکے اس گودام میں ہوئے جہاں 2785 ٹن ایمونیم نائٹریٹ رکھا ہوا تھا