بابری مسجد کے انہدام کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کون ہیں؟ - BBC News اردو

بابری مسجد کے انہدام کیس کا فیصلہ: 30 ستمبر کو فیصلہ سنانے والے جج سریندر کمار یادو کون ہیں؟

29/09/2020 4:13:00 AM

بابری مسجد کے انہدام کیس کا فیصلہ: 30 ستمبر کو فیصلہ سنانے والے جج سریندر کمار یادو کون ہیں؟

لکھنؤ میں قائم خصوصی عدالت (ایودھیا کیس) کے پریزائیڈنگ آفیسر کی حیثیت سے جج سریندر کمار یادو 30 ستمبر کو مقدمے کی سماعت کے بعد فیصلہ سنانے والے ہیں۔

پانچ سال قبل پانچ اگست کو انھیں اس معاملے میں خصوصی جج کے طور پر مقرر کیا گیا تھا۔19 اپریل سنہ 2017 کو سپریم کورٹ نے انھیں روزانہ کی بنیاد پر سماعت کر کے سماعت کو دو سال میں پورا کرنے کا حکم دیا تھا۔اس مقدمے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بی جے پی کے مارگ درشک منڈل یعنی رہنما کونسل کے اہم رہنما ایل کے اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی، اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ، سابق مرکزی وزیر اوما بھارتی سمیت 32 اہم ملزمان کو جج سریندر کمار یادو کی عدالت میں اس دن موجود رہنے کو کہا گیا ہے۔

’کرانچی‘ اور ’گلشنِ باغ‘ میں خانہ جنگی کی خبروں پر مزاحیہ تبصرے - BBC News اردو شہباز شریف کی بیٹی کو اشتہاری قرار دینے کا نوٹس گھر اور عدالت کے باہر آویزاں سیکس سے جڑے حفظان صحت کے آٹھ اصول جو آپ کے لیے جاننا ضروری ہیں - BBC News اردو

،تصویر کا ذریعہSANJEEV PANDEYجج سریندر کمار یادو کون ہیں؟مشرقی اتر پردیش کے ضلع جون پور کے پکھان پور گاؤں کے رام کرشن یادو کے گھر پیدا ہونے والے سریندر کمار یادو 31 سال کی عمر میں ریاستی عدالتی خدمات کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ان کی عدالتی زندگی کا آغاز فیض آباد میں ایڈیشنل منصف کے عہدے کے ساتھ ہوا تھا۔ اس کے بعد غازی پور، ہردوئی، سلطان پور، اٹاوہ، گورکھپور میں خدمات انجام دیتے ہوئے وہ دارالحکومت لکھنؤ کے ضلع جج کے عہدے تک پہنچے۔

اگر انھیں خصوصی عدالت (ایودھیا کیس) کے جج کی ذمہ داری نہ دی جاتی تو وہ گذشتہ سال ستمبر کے مہینے میں ہی ریٹائر ہوجاتے۔بار کے لوگ بینچ میں ان کی موجودگی کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟لکھنؤ میں سینٹرل بار ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری ایڈوکیٹ سنجیو پانڈے کا کہنا ہے کہ 'وہ ایک انتہائی نرم مزاج شخص ہیں۔ وہ کبھی بھی اپنے اوپر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالنے دیتے۔ ان کا شمار اچھے اور ایماندار ججوں میں ہوتا ہے۔'

گذشتہ سال جب انھیں لکھنؤ کے ضلعی جج کے عہدے سے فارغ کیا گیا تھا تو بار ایسوسی ایشن نے انھیں الوداعیہ دیا تھا۔لیکن اس سے قبل ہی سپریم کورٹ نے ان کی ریٹائرمنٹ کی میعاد میں توسیع کردی تھی اور خصوصی عدالت (ایودھیا کیس) کے پریزائیڈنگ آفیسر کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے بابری مسجد انہدام کیس کی سماعت مکمل کرنے کو کہا تھا۔

ایڈوکیٹ سنجیو پانڈے نے کہا: 'ہم نے انھیں اس امید کے ساتھ الوداع کہا کہ وہ ایک تاریخی فیصلہ دیں گے جو تاریخ کے صفحات میں لکھا جائے گا۔ ان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ بغیر کسی دباؤ کے اپنا فیصلہ سنائيں گے۔'،تصویر کا ذریعہPTIآئین ہند کا آرٹیکل 142

ریٹائر ہونے والے کسی جج کی مدت ملازمت میں توسیع اپنے آپ میں تاریخی بات تھی کیونکہ آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت سپریم کورٹ نے اپنے حق کا استعمال کیا تھا۔اس آرٹیکل کے تحت سپریم کورٹ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ 'مکمل انصاف' کے لیے پہلے زیر التوا کسی معاملے میں کوئی بھی ضروری فیصلہ کر سکتا ہے۔

بہر حال سپریم کورٹ نے عوامی مفاد میں متعدد بار آرٹیکل 142 کا استعمال کیا ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ بابری مسجد انہدام کیس میں شاید یہ پہلا موقع ہے جب ملک کی عدالت عظمی نے مقدمے کی سماعت کرنے والے جج کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی سماعت پوری ہونے تک اپنے عہدے پر برقرار رہنے کے لیے کہا۔

’کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس‘ میں اضافہ آخر کتنی بڑی کامیابی ہے؟ - BBC News اردو ملک میں کورونا وائرس کے فعال کیسز میں بتدریج اضافہ - ایکسپریس اردو ایک کروڑ چاہئیں... تو دوسری شادی کیجیے - ایکسپریس اردو

دوسری جانب اتر پردیش حکومت نے عدالت کو بتایا تھا کہ ریاستی عدالتی نظام میں ریٹائرمنٹ کی عمر میں اضافے کا کوئی نظم نہیں ہے۔اتنا ہی نہیں، سپریم کورٹ نے ایودھیا کیس میں 'مکمل انصاف' کے لیے مزید بہت کچھ کہا۔ اس نے کہا کہ 'جب تک سماعت کا پورا عمل مکمل نہیں ہو جاتا اس وقت تک کوئی دوسری سماعت نہیں ہوگی۔ سماعت کرنے والے جج کا تبادلہ نہیں کیا جائے گا۔ سماعت اس وقت تک ملتوی نہیں کی جائے گی جب تک عدالت کو یہ محسوس نہ ہو کہ کسی خاص تاریخ پر سماعت ممکن نہیں ہے۔ ایسی صورت میں اگلے دن یا قریب ترین تاریخ پر سماعت ہوسکتی ہے لیکن ریکارڈ پر ایسا کرنے کی وجہ لکھی جائے گی۔

،تصویر کا ذریعہAFPمقدمہ نمبر 197 اور 198دراصل بابری مسجد انہدام کیس کا پس منظر چھ دسمبر 1992 کو درج دو ایف آئی آر سے متعلق ہے۔مقدمہ نمبر 197 میں لاکھوں کارسیوکوں کے خلاف ڈکیتی، لوٹ مار، زخمی کرنے، عوامی عبادت کو نقصان پہنچانے اور مذہب کے نام پر دو جماعتوں کے مابین دشمنی بڑھانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

مقدمہ نمبر 198 میں ایل کے اڈوانی، اشوک سنگھل، ونے کٹیار، اوما بھارتی، سادھوی ریتمبھرا، مرلی منوہر جوشی، گریراج کشور اور وشنوہری ڈالمیا جیسے افراد کو نامزد کیا گیا تھا۔ ان سب پر الزام ہے کہ انھوں نے مذہبی مخاصمت والی اور اشتعال انگیز تقریر کی۔بہر حال ان دو ایف آئی آر کے علاوہ 47 مزید علیحدہ علیحدہ مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔ بابری مسجد انہدام کیس میں سی بی آئی نے کل 49 افراد پر الزام عائد کیا تھا، لیکن برسوں سے چل رہی سماعت کے دوران اب تک 17 افراد کی موت ہوچکی ہے۔

جن 17 ملزمان کی موت ہو چکی ہے ان میں بال ٹھاکرے، اشوک سنگھل، گیریراج کشور، وشنوہری ڈالمیا شامل ہیں۔،تصویر کا ذریعہPRAVEEN JAIN/BBCمقدمے کی سماعت کے دوران آنے والے چیلنجز'ملزم ذاتی طور پر موجود ہیں لیکن گواہ غیر حاضر ہے کیونکہ مجسٹریٹ کے سامنے دیے گئے بیان میں اس نے اپنا جو پتہ بتایا تھا اس پر وہ نہیں ملا۔'

'ملزمان ذاتی طور پر موجود نہیں ہیں۔ کوئی گواہ بھی موجود نہیں ہے۔''گواہ کو شہادت کے لیے طلب کیا گیا تھا لیکن وہ آج عدالت میں پیش نہیں ہو سکا۔ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ کل حاضر ہوں گے۔'گواہ کو وی ایچ ایس ویڈیو کیسٹ دیکھ کر گواہی دینا ہے۔ سی بی آئی کے پاس عدالت میں کیسٹ دکھانے کے لیے ضروری آلہ موجود نہیں ہے۔ سی بی آئی کا کہنا ہے کہ صرف دور درشن کے دہلی مرکز کا تکنیکی عملہ ہی اس کیسٹ کو یہان آ کر چلا سکتا ہے۔

گواہ نے بذریعہ ای میل یہ اطلاع دی ہے کہ وہ دہلی میں ہیں اور وہ 69 سال کے ہو چکے ہیں اور اس لیے سفر کرنے سے قاصر ہیں۔یہ کچھ مثالیں ہیں جو مقدمے کی سماعت کے دوران جج سریندر کمار یادو کی عدالت میں درج کرائے گئے تھے۔ اس کے علاوہ انھیں غیر حاضری کے درجنوں معافی ناموں کو بھی نمٹانا پڑا۔

'17سال بعد پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے باہر آگیا' Rabbani says PTI govt, Pemra enemies of media freedom برازیل میں کورونا ویکسین کی آزمائش ، ایک رضا کار ہلاک

،تصویر کا ذریعہPTI،تصویر کا کیپشنایل کے اڈوانی کو ہزاروں ہندو مذہبی عقیدت مندوں کے جذبات بھڑکانے اور مجرمانہ سازش کے الزامات کا سامنا ہےسماعت کرنے والے کسی جج کے لیے یہ کتنا مشکل ہے؟ریٹائرڈ جج ایس سی پاٹھک کا کہنا ہے کہ 'جو لوگ گواہی نہیں دینا چاہتے وہ ٹال مٹول کرتے ہیں۔ کسی بھی مقدمے کی سماعت کے دوران ایسے حالات سامنے آتے رہتے ہیں لیکن عدالت کے پاس گواہ کو طلب کرنے کے اختیارات ہیں۔ اگر گواہ نہیں آتا ہے تو پھر اس پر سختی کی جاسکتی ہے، اس کے خلاف وارنٹ جاری کیا جاسکتا ہے۔ اسے گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ عدالت کے پاس ایسے اختیارات ہیں۔'

30 ستمبر کی تاریخمغل بادشاہ بابر کی تعمیر کردہ جس مسجد کو منہدم کیا گیا تھا اس سے متعلق ایک تاریخی کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ پہلے ہی کر چکا ہے۔گذشتہ سال نومبر میں جسٹس گوگوئی کی سربراہی میں پانچ ججوں کے آئینی بنچ نے ایودھیا میں ہندو فریق کو رام مندر کی تعمیر کا حق دیتے ہوئے کہا تھا کہ 70 سال قبل 450 سالہ قدیم بابری مسجد میں مسلمانوں کو غلط طریقے سے عبادت کرنے سے روکا گیا تھا۔ اور 27 سال پہلے بابری مسجد غیر قانونی طور پر منہدم کی گئی تھی۔

دوسرا مقدمہ فیصلے کے لیے خصوصی جج سریندر کمار یادو کی عدالت میں 30 ستمبر کی تاریخ کا منتظر ہے۔کیا غیر قانونی طور پر گرائی جانے والی مسجد کے قصورواروں پر فیصلہ دینا اپنے آپ میں دباؤ والی ذمہ داری نہیں ہے؟ریٹائرڈ جج ایس سی پاٹھک کا کہنا ہے کہ 'کسی جج کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے۔ انھیں اس بات کی بھی پرواہ نہیں ہوتی کہ آیا اس کے فیصلے کی تعریف کی جائے گی یا تنقید۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ کے سامنے کس طرح کے شواہد رکھے گئے ہیں اور ان شواہد پر کس قدر یقین کیا جا سکتا ہے۔ ایک جج کو ان چیزوں کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔'

اس معاملے میں یکم ستمبر کو جج سریندر کمار یادو کی عدالت نے سماعت مکمل کر لی تھی اور دو ستمبر سے فیصلہ لکھنا شروع کردیا تھا۔اس معاملے میں سی بی آئی نے اپنے حق میں 351 گواہان اور تقریباً 600 دستاویزات پیش کیں۔ مزید پڑھ: BBC News اردو »

ویڈیو: عمران خان دھمکیاں کسی اور کو دیں، مریم نواز

جیلوں میں جانے سے نہیں...;

ہماری طرف سے پیشاب کریں بابری مسجد پر ہمیں کیا پہلی بھی مندر ہوتا تھا بابر نے ہندو جو مسلمان ہو گئے تھے کے کہنے پر گرا کر مندر بنا دیا فضول میں پلید جگہ پر مسجد بنانے کی کیا تک جیسے پلید چرچ پر ترکی والوں نے آیا صوفیا مسجد بنا ڈالی ننوں کے حرام بچے پیدا ہوتے تھے اس چرچ میں 😒 jangnews اللہ تعالیٰ جلہ شانہُ، اقتدار نصیب فرما ھم مندر گرا کرکے فوراً 'بابری مسجد' دوبار اسی مقام پر تعمیر کروائیں گے، انشاءاللہ ؛؛؛

Kisi harami ki haram olad hoga

’رومانوی افسانے کی بنیاد پر کیس کے فیصلے نہیں ہوتے‘ - BBC News اردوسپریم کورٹ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے قتل کے مجرم عمر شیخ کی بریت سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کردیا ہے۔ bhensaa Even Supreme Court is not genuine Hamare adalto ka b khuda hafiz aik adalat aik faisla deti hai ar dosri adalat usi hi faisle ko maatal kar deti hai ye routine ban gay hai

طلال چوہدری کے معاملے پرپارٹی دوروز میں فیصلہ سنا دے گی، رانا ثنا اللہ - ایکسپریس اردوشفاف تحقیقات کرکے عوام کو حقائق بتائیں گے، صدر مسلم لیگ ن پنجاب Chalain Dekhty Hain Kb sunati Faisala, Waiting , Important for each one of us to know this اوہ اوہ انصاف والا ن لیگ نے کون تلاش کیا ہیں جو خود ساری زندگئ یہی گندہ مچاتا رہاہے🤣😂🤣😂

بنگلا دیش کرکٹ ٹیم کے دورۂ سری لنکا کا فیصلہ نہ ہوسکابنگلادیش کرکٹ ٹیم کے دورۂ سری لنکا کا فیصلہ نہ ہوسکا، بنگلادیش کرکٹ بورڈ (‏بی سی بی) نے سیریزکھٹائی میں پڑتے ہی بائیوسیکیور ببل بھی ختم کردیا۔

لائسنس کے مطابق کے-الیکٹرک 2 بجلی گھر ڈیزل سے چلانے میں ناکامنیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) دستاویز کے مطابق بن قاسم 2 اور کورنگی بجلی گھر کےلیے ڈیزل متبادل ایندھن قرار دیا گیا ہے۔ وہ جنریٹرز کسی طاقتور ترین انسان کے

فیصل واڈا کا طلال چوہدری کے لیے گانے کے ساتھ صحت یابی کا پیغام - ایکسپریس اردوفیصل واڈا نے اپنی ٹوئٹ میں طلال چوہدری کی جلد صحت یابی کے ساتھ نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا اس شعر میں شاعر ٹیریان نیازی کے بقیہ پیسے مانگ رہا ہے انشاءاللہ وہ دن دور نہیں جب فیاض چوہان،فوادچوہدری،فیصل ووڈا،شہباز گل سمیت پی ٹی آئی کے بہت سارے لیڈران کو اسی طرح ان دیکھی لڑکی کے بھائیوں سے مار پڑے گی اور میڈیا پر جس طرح آج ان پی ٹی آئی کے لیڈران کی بدمعاشیاں عروج پر ہیں اسی طرح کل ن لیگ کا بھی وقت آئے گا۔ اسطرح کی حرکتوں کے بعد کوئی بھی محفوظ نہی رہے گا اس حمام میں سب ننگے ہیں ۔۔بہتر ہے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا بند کرے ۔۔

مصر کے پارلیمانی انتخابات، منشیات کے عادی کئی امیدوار نااہل قرارمصر کی مختلف ریاستوں سے پارلیمانی الیکشن میں حصہ لینے والے ان امیدواروں کے طبی معائنے سے پتہ چلا ہے کہ یہ افرد منشیات کا استعمال کرتے ہیں ہیں۔ جسکی بنیاد پر انھیں نااہل قرار دیدیا گیا۔ Excellent