آرٹیکل 370 کیا تھا؟

آرٹیکل 370 کیا تھا؟

آرٹیکل 370 کیا تھا؟

آرٹیکل 370 کیا تھا؟

05/08/2020 7:42:00 PM

آرٹیکل 370 کیا تھا؟

لاہور: (خصوصی ایڈیشن) آرٹیکل 370 کو 17 اکتوبر 1949ء کو ہندوستان کے آئین میں شامل کیا گیا تھا۔ اس کے تحت راجہ ہری سنگھ کو یقین دلایا تھا کہ جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ حاصل ہوگا۔

اس یقین دہانی کو آئینی بنانے اور کشمیریوں کے گرد جال کو مزید مضبوط کرنے کے لیے بھارتی آئین میں آرٹیکل 370 شامل کی گئی تھی۔ آرٹیکل 370 کو 17 اکتوبر 1949ء کو ہندوستان کے آئین میں شامل کیا گیا تھا۔اس آرٹیکل کے مطابقجموں و کشمیر کو خصوصی ریاست کی حیثیت دی گئی۔

بابری مسجد انہدام کیس میں نامزد تمام 32 ملزمان بری - BBC News اردو منی لانڈرنگ کیس؛ ایف آئی اے نےجہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین کو آج طلب کرلیا - ایکسپریس اردو ٹرمپ، بائیڈن مباحثے کے بعد پاکستانیوں کو عمران خان کی یاد کیوں آئی؟ - BBC News اردو

جموں و کشمیر کو اپنا ایک الگ آئین بنانے اور ہندستانی آئین (آرٹیکل 1 اور آرٹیکل 370 کو چھوڑ کر) کو نافذ نہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔جموں و کشمیر کے بارے میں پارلیمنٹ کے قانونی اختیارات کو پابند کرتا ہے۔ریاست کشمیر دفاعی،مالیاتی،مواصلاتی اور خارجہ امور کو چھوڑ کے کسی اور معاملے میں وفاقی حکومت ،مرکزی پارلیمان اور ریاستی حکومت کی توثیق و منظوری کے بغیر کشمیر میں بھارتی قوانین کا نفاذ نہیں کیا جا سکے گا۔

شہریت ، جائداد کی ملکیت ، اور جموں و کشمیر کے باشندوں کے بنیادی حقوق کا قانون باقی ہندوستان میں مقیم باشندوں سے مختلف ہے۔ جس کے تحت دیگر ریاستوں کے شہری جموں و کشمیر میں جائیداد نہیں خرید سکتے ہیں۔مرکز کو مقبوضہ کشمیر میں مالی ایمرجنسی کا اعلان کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

بھارتی آئین کی آرٹیکل 370 کے تحت مقبوضہ کشمیر کو خصوصی درجہ حاصل تھا اور اس آرٹیکل کے تحت مقبوضہ کشمیر کی علیحدہ اسمبلی، علیحدہ پرچم، امور خارجہ اور دفاع کے علاوہ تمام معاملات میں آزادی تھی۔بنیادی طور پر یہ آرٹیکل مرکز اور ریاست جموں و کشمیر کے تعلقات کے خدوخال کا تعین کرتا تھا اور بھارتی آئین کے تحت جو دفعات دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتی ہیں ان کا اطلاق کشمیر پر نہیں ہوتا تھا۔5اگست 2019 ء کو بھارت نے کشمیریوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپتے ہوئے اس آرٹیکل کو منسوخ کردیا اور ریاست کو مکمل طور پر اپنے قبضے میں لے لیا۔ اس آرٹیکل کی منسوخی کے ساتھ ہی مقبوضہ کشمیر کا یہ خصوصی اسٹیٹس ختم ہوگیا ہے اور اب ریاست پر بھارتی آئین پوری قوت اور تمام جذئیات کے ساتھ نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

آرٹیکل 35 اے کیا تھا؟آرٹیکل 370 کے خاتمے کے ساتھ ہی آرٹیکل 35 اے بھی ختم کر دیاگیا ہے۔ یہ آرٹیکل 1954 ء میںایک صدارتی حکم کے تحت شامل کیا گیا تھا۔آرٹیکل 35 اے آرٹیکل 370 سے ہی نکلا ہے۔اس آرٹیکل کے مطابقمقبوضہ کشمیر کی قانون سار اسمبلی کو یہ فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار ہے کہ ریاست کے مستقل رہائشی کون ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کے رہائشیوں کو سرکاری ملازمت،جائیداد کے حصول،آبادکاری،اسکالر پشز اور امدار کی دیگر اقسام کے حق سے متعلق خصوصی حقوق اور مراعات ملتی ہے۔ریاست کی قانون ساز اسمبلی کو مستقل رہائشیوں کے علاوہ کسی دوسرے شخص پر کوئی بھی پابندی عائد کرنے کی اجازت ہے۔

اس کے تحت ریاست کے باشندوں کی بطور مستقل شہری کی تصدیق ہوتی تھی اور انھیں ریاست میں تمام حقوق ملنے کی یقین دہانی کرائی جاتی تھی۔ اس قانون کی رو سے جموں و کشمیر سے باہر کا باشندہ ریاست میں غیر منقولہ جائیداد کا مالک نہیں بن سکتا تھا اور نہ ہی یہاں سرکاری نوکری کرسکتا تھا۔ اس قانون کی وجہ سے انتہاپسند ہندوئوں کو کشمیرمیں باقاعدہ جائیداد کی خریداری اور سرمایہ کاری کی اجازت نہیں تھی۔تاہم اب بھارت سے کوئی بھی شخص جموں و کشمیر میں نہ صرف سرمایہ کاری کرسکتا ہے بلکہ جائیداد خرید کرکے مستقل شہری بھی بن سکتا ہے۔ اسی وجہ سے کشمیریوں کو خدشہ ہے کہ جس طرح اسرائیل نے فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کیا ہے اس طرح اب اس آرٹیکل کے خاتمے کے ذریعے بھارت کشمیریوں کو ان کی زمین سے بے دخل کرنا چاہتا ہے۔

’نریندر مودی کے بہترین دوست نے انھیں سرے عام شرمسار کیا‘ - BBC News اردو ملتان:انسان اور کبوترکی دوستی نےسب کوحیران کردیا ڈونلڈ ٹرمپ بمقابلہ جو بائیڈن: پہلا صدارتی مباحثہ کس کے نام رہا؟ - BBC News اردو

آرٹیکل 370 کے خاتمے کا مطلب کیا ہے؟بی جے پی کی حکومت کی جانب سے لائی جانے والی اس تبدیلی کے نتیجے میں جموں و کشمیر کو ایک ریاست کا درجہ حاصل نہیں رہا۔اب ریاست جموں و کشمیر کی جگہ مرکز کے زیرِ انتظام دو علاقے بن جائیں گے جن میں سے ایک کا نام جموں و کشمیر اور دوسرے کا لداخ ہو گا اور ان دونوں علاقوں کا انتظام و انصرام لیفٹیننٹ گورنر چلائیں گے۔جموں کشمیر میں قانون ساز اسمبلی ہو گی تاہم لداخ میں کوئی اسمبلی نہیں ہو گی۔

اس کے علاوہ اب جموں و کشمیر کے داخلہ امور وزیراعلیٰ کی بجائے براہِ راست وفاقی وزیرِ داخلہ کے تحت آ جائیں گے جو لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے انھیں چلائے گا۔انڈیا کے تمام مرکزی قوانین جو پہلے ریاستی اسمبلی کی منظوری کے محتاج تھے اب علاقے میں خودبخود نافذ ہو جائیں گے۔

مزید پڑھ: Dunya News »

سوات کی طالبہ اقوام متحدہ کی ینگ لیڈر منتخب

اس سے قبل بھی متعدد ایوارڈز جیت چکی...;

امریکا میں چینی محققین کو ہراساں کیا جا رہا ہے چینامریکا میں چینی محققین کو ہراساں کیا جا رہا ہے، چین US China WangWenbin ChineseResearchers Harassed ChinaDaily PDChina XHNews MFA_China StateDept

غیر قانونی بھارتی اقدام نے کشمیریوں کی شناخت کو متاثر کیا: وزیرِ اعظموزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بھارت کے غیر قانونی اقدام نے کشمیریوں کی شناخت کو متاثر کیا ہے۔

شہر کو کتنی بجلی کی ضرورت ہے، نااہل کے الیکٹرک کو یہ بھی علم نہیںنااہلی کا یہ عالم ہے کہ شہر کو کتنی بجلی درکار ہے، اور ادارہ کتنی بجلی پیدا کرنے کے قابل ہے، کے الیکٹرک یہ بھی بتانے سے قاصر ہے۔

آن لائن قربانی: ’کسی کو گوشت کم ملا، کسی کو خراب تو کسی کو ملا ہی نہیں‘ - BBC News اردوپاکستان میں آن لائن قربانی کا تجربہ کچھ لوگوں کے لیے مثبت نہ رہا۔ ’کسی کو گوشت کم ملا، کسی کو خراب تو کسی کو کوئی گوشت ملا ہی نہیں۔‘

عمران خان کو منانے کا ایک خفیہ طریقہ ہے جسے سب سے شیئر نہیں کیا جا سکتا فواد چودھری نے حیران کن انکشاف کردیا' عمران خان کو منانے کا ایک خفیہ طریقہ ہے جسے سب سے شیئر نہیں کیا جا سکتا' فواد چودھری نے حیران کن انکشاف کردیا ImranKhanPTI fawadchaudhry ImranKhan PMImranKhan PTI

پاکستان ڈیجیٹل فاونڈیشن معاملہ تانیہ ایدروس عہدے سے فارغ لیکن کیا اس فاﺅنڈیشن کا عمران خان کو علم تھا ؟ جہانگیر ترین کا موقف بھی سامنے آ گیاپاکستان ڈیجیٹل فاونڈیشن معاملہ، تانیہ ایدروس عہدے سے فارغ لیکن کیا اس فاﺅنڈیشن کا عمران خان کو علم تھا ؟ جہانگیر ترین کا موقف بھی سامنے آ گیا JahangirKTareen JahangirTareen