انڈیا اور امریکہ میں کیسا تجارتی معاہدہ ہو سکتا ہے؟

ٹرمپ کا دورہ: انڈیا اور امریکہ میں کیسا تجارتی معاہدہ ہو سکتا ہے؟

25/02/2020 7:44:00 PM

ٹرمپ کا دورہ: انڈیا اور امریکہ میں کیسا تجارتی معاہدہ ہو سکتا ہے؟

چین کے بعد امریکہ انڈیا کا سب سے بڑا تجارتی حلیف ہے۔ دونوں میں باہمی تجارت سنہ 2018 میں ریکارڈ 142.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ امریکہ نے انڈیا کے ساتھ سنہ 2019 میں مختلف اشیا کی 23.2 ارب ڈالر کی تجارت کی۔

گذشتہ تین برسوں میں انڈیا اور امریکہ کے درمیان تجارت کے معاملے میں کشیدگی بڑھتی نظر آئی ہے۔ اگرچہ انڈیا کا تجارتی خسارہ امریکہ کے چین سے تجارتی خسارہ کے دسویں حصے سے بھی کم رہ گیا تاہم دہلی بھی واشنگٹن کے غصے سے بچ نہیں پایا۔امریکہ اور انڈیا میں تجارتی جنگ اس وقت بڑھک اٹھی جب ٹرمپ انتظامیہ نے انڈیا سے آنے والے سٹیل پر 25 فیصد اور ایلومونیم پر 10 فیصد ڈیوٹی عائد کر دی۔ آئندہ چند ماہ میں اس فیصلے پر عمل درآمد تک انڈیا نے کئی بار امریکی حکام سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی اپیل کی لیکن کوئی جوابی اقدام نہیں اٹھائے۔ امریکی صدر نے سرعام کہا کہ انڈیا امریکہ سے درآمد کردہ چیزوں کو بہت مہنگا فروخت کرتا ہے اور اسے ’ٹیرف کنگ آف دی ورلڈ‘ یعنی دنیا میں سب سے زیادہ محصول لگانے والا کہا۔

لداخ میں بھارت کو چین کے ہاتھوں عبرتناک شکست سچ بولنے کی وجہ سے میری کپتانی چھن گئی، یونس خان - ایکسپریس اردو سعودی عرب میں تمام مساجد باجماعت نمازوں کے لیے کھولنے کا فیصلہ - ایکسپریس اردو

انڈیا نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایسی 28 اشیا پر محصولات عائد کر دیں جو امریکہ میں بنائی اور برآمد کی جاتی ہیں۔ یہ 16 جون سنہ 2019 سے لاگو ہیں۔ امریکہ اس معاملے کو عالمی ادارہ تجارت میں لے گیا۔دونوں ممالک میں تجارتی مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے تو امریکہ نے ای-کامرس پر عدم اتفاق کے بعد انڈیا کے لیے ایچ ون بی ویزہ کے کوٹہ کو بھی 15 فیصد کم کر دیا اور سیکشن 301 کے تحت انڈیا کی جانب سے پیدا کی جانے والی تجارتی رکاوٹوں کے متعلق تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ امریکہ کے مطابق یہ تجارتی رکاوٹیں محصول لگا کر یا پھر بغیر اس کے کھڑی کی جا رہی تھیں۔

13 نومبر سنہ 2019 کو انڈیا کے وزیر برائے تجارت پیوش گوئل اور امریکی تجارتی نمائندہ رابرٹ لائٹزر نے ملاقات کی تاکہ اس کمرشل معاہدے کو شروع کیا جا سکے۔ نومبر کے آخر میں امریکہ سے ایک کمیٹی انڈیا آئی تاکہ اپنے انڈین ہم منصبوں کے ساتھ ایک مجوزہ معاہدے پر بات کر سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹGetty Imagesامریکی تجارتی نمائندہ رابرٹ لائٹزر جو اس تجارتی بات چیت کی قیادت کر رہے تھے اس بار صدر ٹرمپ کے ہمراہ آنے والے وفد کا حصہ نہیں ہیں۔رواں ماہ کے اوائل میں لائٹزر نے اپنا انڈیا کا دورہ بھی منسوخ کیا حتکہ انڈیا نے امریکہ کے اس کی دودھ اور پولٹری کی مصنوعات تک رسائی کے لیے نئے منصوبے بھی پیش کیے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک میں تجارت اور کاروبار کے حوالے سے اختلافات کس قدر شدید ہو چکے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے سے قبل امریکہ نے انڈیا کو ایسے ترقی پذیر ممالک کی فہرست سے خارج کر دیا جنھیں اس چیز سے استثنیٰ حاصل ہے کہ وہ اپنی برآمدات پر ناجائز رعایتی نرخوں کی وجہ سے امریکی صنعت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ امریکہ نے انڈیا کو اس فہرست سے اس لیے نکالا کیونکہ انڈیا جی 20 ممالک میں شامل ہے اور دنیا کی تجارت کا 0.5 فیصد حصہ ہے۔

امریکہ کے اس اقدام سے جی ایس پی (جنرلائزیشنڈ سسٹم آف پریفرنسز) زمرے میں واپس آنے کی انڈیا کی کوششوں کو دھچکا پہنچا ہے۔ اس زمرے میں شامل ممالک کو ترجیح دی جاتی ہے اور دیگر فوائد ملتے ہیں اور اس میں عام طور پر ترقی پذیر ممالک کو رکھا جاتا ہے۔جی ایس پی انڈیا کے لیے اہم ہے کیونکہ اس کے تحت انڈیا کی کچھ مخصوص مصنوعات امریکہ کی مارکیٹ میں ڈیوٹی فری کے طور پر داخل ہوسکتی ہیں لیکن یہ فائدہ پانچ جون سنہ 2019 سے ختم ہو گیا ہے جبکہ امریکہ کی ڈیری اور طبی آلات کی صنعت کا کہنا ہے کہ انڈیا کی جانب سے لگائے جانے والے تجارتی محصول کے سبب ان کی برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔

انڈیا میں کامرس اور صنعت کی وزرات میں سابق یونین سیکریٹری اجے دوآ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’فریقین کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کی وجہ سے دونوں ممالک میں تلخیاں پیدا ہوئیں ہیں۔ ‘امریکہ-انڈیا سٹریٹجک پارٹنرشپ فورم کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر مکیش آگھی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ٹرمپ کی جانب سے محصولات میں اضافے سے جن اشیا کی تجارت سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے ان میں اپلائنسز، مکینیکل اور الیکٹریکل مشینری، کیمیکلز، سٹیل اور گاڑیوں کے پرزے شامل ہیں جس کی وجہ سے انڈین برآمدات کا امریکی بازاروں تک پہنچنا مشکل ہو گیا ہے۔

طیارہ حادثے کے اصل ذمہ داروں کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے، پائلٹس ایسوسی ایشن - ایکسپریس اردو چین عالمی طاقت کے طور پر امریکہ کی جگہ لے رہا ہے: یورپی یونین حادثے کا شکار طیارے کا کپتان لینڈنگ گیئر کھولنا بھول گیا تھا، اے ٹی کنٹرولر کا بیان

انہوں نے کہا کہ انڈیا کے ردعمل سے امریکہ سے درآمد کیے جانے والے پھلوں اور میوہ جات کی تجارت سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ کیلیفورنیا سے آنے والے بادام اور اخروٹ اور واشنگٹن کے سیب اس سےمتاثر ہوئے ہیں۔ مزید پڑھ: BBC News اردو »

ٹرمپ کے دورہ ہندوستان میں کیسا تجارتی معاہدہ ہوسکتا ہے؟ جواب: مسلمان قتل کرنے کا معاہدہ جلد طے ہوجانے کی امید ہے۔ کمال ہے BBC اردو ایسی خبریں کیوں نہیں دیتا

ولنگٹن میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں انڈیا کو دس وکٹوں سے شکستنیوزی لینڈ نے ولنگٹن میں کھیلے جانے والے دو کرکٹ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے میچ میں انڈیا کو باآسانی دس وکٹوں سے شکست دے کر سیریز میں برتری حاصل کر لی ہے۔ well done 👍 NZ Wawa Very God NZ انڈیا اور ان کے مخالف ٹیم کے لچھن دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے ان کا ہر میچ فکس ہو🤔

بنگلہ دیش اور انڈیا میں زیادہ خوش حال کون؟انڈیا کے ایک وزیر نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر سب کو انڈیا کی شہریت لینے دی جائے تو بنگلہ دیش کی آبادی آدھی رہ جائے گی، جواب میں بنگلہ دیش کے ایک وزیر نے کہا کہ ان کا ملک ’اتنا غریب نہیں۔‘ Humen nhi janna dono k baare mein we only want to hear about pakistan hamari jan koi khush ho gham zada ho jaye bhaar mein Bungladesh

انٹربینک میں ڈالر مہنگا،سٹاک ایکس چینج میں بھی مندی ریکارڈکراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)انٹربینک میں ڈالر 4 پیسے مہنگا ہو گیا جس کے بعد انٹربینک میں

ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 2 ہزار روپے کا اضافہپاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 2 ہزار روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد فی تولہ Go niazi go

دیسی راکٹ میں بیٹھ کر خلا میں جانے کی کوشش کرنے والا شخص ہلاک، ویڈیو وائرلدیسی راکٹ میں بیٹھ کر خلا میں جانے کی کوشش کرنے والا شخص ہلاک، ویڈیو وائرل HomemadeRocket Rocket Space MikeHughes Die Death LaunchRocket StateDept NASA NASA_Johnson

کرونا وائرس افغانستان میں بھی پہنچ گیا،کیس کون سے سرحدی علاقے میں سامنے آیاہے؟جانئےکابل(ڈیلی پاکستان آن لائن)چین سے پھیلنے والاقاتل کرونا وائرس ایران اور بھارت کے بعد