استنبول کی آیا صوفیہ: میوزیم یا مسجد، فیصلہ آج ہو گا

ترکی میں کاؤنسل آف سٹیٹ نے ابھی یہ فیصلہ کرنا ہے کہ استنبول میں موجود آیا صوفیہ کو ایک مسجد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

02/07/2020 8:15:00 AM

ترکی میں آج کونسل آف سٹیٹ نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ استنبول میں موجود آیا صوفیہ کو ایک مسجد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ یہ عمارت تقریباً ایک ہزار سال تک دنیا کا سب سے بڑا گرجا گھر رہی ہے۔ مکمل خبر:

ترکی میں کاؤنسل آف سٹیٹ نے ابھی یہ فیصلہ کرنا ہے کہ استنبول میں موجود آیا صوفیہ کو ایک مسجد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

گذشتہ سال اپنی انتخابی مہم کے دوران صدر طیب اردوغان نے تبدیلی کا وعدہ کیا تھا۔ترکی میں قدامت پسند مسلمان کئی سالوں سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس عمارت کو ایک مسجد بنایا جائے۔ تاہم حزبِ مخالف میں موجود سیکیولر سیاسی قوتوں نے اس اقدام کی مخالفت کی ہے۔ اس تجویز پر بین الاقوامی سطح پر بھی تنقید کی گئی ہے اور دنیا بھر کے مذہبی اور سیاسی رہنمائوں نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

نیب کا ہنگامی اجلاس طلب ، مریم نواز کے خلاف مقدمہ درج کرانے کا فیصلہ آئینی و قانونی معاملات میں غنڈہ گردی کے ذریعے مداخلت کی گئی، نیب نے اعلامیہ جاری کر دیا روس نے دنیا کی پہلی کرونا وائرس ویکسین تیار کر لی: ولادی میر پیوٹن

تصویر کے کاپی رائٹGetty Imagesمشرقی آرتھوڈاکس چرچ کے سربراہ نے اس کی مخالفت کی ہے۔ یونان نے بھی اس اقدام کے خلاف بات کی ہے جہاں لاکھوں آورتھوڈوکس مسیحی رہتے ہیں۔یونان میں وزیر برائے ثقافت نے ترکی پر الزام لگایا ہے کہ وہ قوم پرستی اور مذہبی جذبات کو جنونی حد تک بڑھاوا دے رہا ہے اور ان کا اصرار ہے کہ یونیسکو کی ورلڈ ہیریٹیج سائٹ کو تنظیم کی اپنی کمیٹی سے منظوری کے بغیر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

ادھر یونیسکو کے ڈپنی ڈائریکٹر ارنیسٹو رامیریز نے بھی اس بات سے اتفاق کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یونیسکو نے ترکی کو اس سلسلے میں خط لکھا ہے تاہم ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔تاریخ کیا ہے؟یہ معروف عمارت استنبول کے فیتھ ڈسٹرکٹ میں سمندر کے کنارے واقع ہے۔

بازنطینی بادشاہ جسٹنیئن اول نے اس کی تعمیر کا حکم سنہ 532 میں دیا تھا جب اس شہر کا نام قسطنطنیہ تھا۔ یہ بیزنٹائن سلطنت (جسے مشرقی رومی سلطنت بھی کہا جاتا ہے) کا دارالحکومت بھی تھا۔ ماہرین بحیرہ روم کے پار سے اس عمارت کی تعمیر کے لیے اشیا لائے تھے۔تصویر کے کاپی رائٹ

Getty Imagesسنہ 537 میں جب یہ عمارت مکمل ہوئی تو یہ آورتھوڈوکس چرچ کے سربراہ کا مقام بن گئی۔ اہم ترین بازنطینی تقریبات جیسے کہ تاج کشائی اس عمارت میں ہونے لگیں۔تقریباً نو سو سال تک یہ عمارت آورتھوڈوکس چرچ کا گھر رہی۔ بیچ میں 13ویں صدی میں یہ کچھ عرصے کے لیے کیتھولک چرچ کے زیرِ انتظام بھی رہی جب یورپی حملہ آوروں نے قسطنطنیہ کا کنٹرول سنبھال کر چوتھی صلیبی جنگ میں شہر میں لوٹ مار کی۔

تاہم 1453 میں سلطنتِ عثمانیہ نے سلطان محمد دوئم کے دور میں قسطنطنیہ پر قبضہ کیا، شہر کا نام تبدیل کر کے استنبول رکھا اور بازنطینی سطلنت کا خاتمہ کر دیا۔اس عمارت میں داخل ہوتے وقت سلطان محمد دوئم کا اصرار تھا کہ اس کی تعمیرِ نو کی جائے اور اسے ایک مسجد بنایا جائے۔ انھوں نے اس میں جمعے کی نماز بھی پڑھی۔

تصویر کے کاپی رائٹGetty Imagesسلطنتِ عثمانیہ کے معماروں نے آورتھوڈوکس نشانیاں مٹا دیں اور عمارت کے ساتھ منار کھڑے کر دیے۔ 1616 میں استنبول کی معروف بلو موسق کی تعمیر تک آیا صوفیہ ہی شہر کی مرکزی مسجد تھی۔918 میں سلطنتِ عثمانیہ کو پہلی جنگِ عظیم میں شکست ہو گئی۔ ترکی میں قوم پرست سیاسی قوتوں نے پروان چڑھی اور اس سلطنت راکھ میں سے جدید ترکی نے جنم لیا۔

مریم نواز کی نیب پیشی، گاڑی میں پتھر بھر کرلانے والے مسلم لیگ (ن) کے رہنما کی گرفتاری کا امکان - سرحدی کشیدگی کے باوجود انڈیا کی چین کو برآمدات میں اضافہ کیوں ہوا؟ - BBC News اردو کے الیکٹرک کا مکمل آڈٹ اور سی ای او مونس علوی کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا حکم

مصطفیٰ کمال اتاترک نے عمارت کو ایک میوزیم بنانے کا حکم دیا اور 1935 میں اسے عام لوگوں کے لیے کھول دیا گیا۔ یہ ترکی کی اہم ترین سیاحتی عمارتوں میں سے ایک ہے۔اس سے فرق کیا پڑتا ہے؟اس عمارت کی 1500 سالہ تاریخ کی وجہ سے ترکی کے اندر اور باہر کئی لوگوں کے لیے مذہبی، روحانی اور سیاسی عقیدت رکھتی ہے۔

قدامت پسند مسلمانوں کا مطالبہ ہے کہ اسے واپس ایک مسجد بنایا جائے اور اس سلسلے میں انھوں نے مظاہرے بھی کیے ہیں تاہم ترکی کا 1934 کا ایک قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔تصویر کے کاپی رائٹGetty Imagesصدر اردوغان نے اس مطالبے کی تائید کی ہے۔ انھوں نے اسے ایک میوزیم بنائے جانے کو ایک غلطی قرار دیا ہے اور مشیران کو کہا ہے کہ وہ اسے واپس مسجد بنانے کے طریقے نکالیں۔

مزید پڑھ: BBC News اردو »

کاروباری سرگرمیاں بحال ہوتےہی مالزمیں سیل لگ گئی

خواتین خوشی سے نہال...;

پاکستان میں کورونا وائرس کے وار جاری گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں اموات میں حیران کن اضافہاسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) ملک میں کورونا وائرس کے وارجاری ہیں اور گزشتہ روز مزید 2846 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ 118 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں

سعودی عرب میں پانچ سال میں ہونے والی اصلاحات 50 سال میں نہیں دیکھیں: العوادسعودی عرب میں پانچ سال میں ہونے والی اصلاحات 50 سال میں نہیں دیکھیں: العواد SaudiArabia DrAwwadSAlawwad Reforms FiveYears Country Development KSAMOFA AwwadSAlawwad

میوزیم یا مسجد: ترکی میں آج ہگیا صوفیہ پر فیصلہ ہوگاترکی میں کاؤنسل آف سٹیٹ نے ابھی یہ فیصلہ کرنا ہے کہ استنبول میں موجود ہگیا صوفیہ کو ایک مسجد میں تبدیل کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

ایران کی کراچی میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمتایران کی کراچی میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت ARYNewsUrdu PakistanStockExchange

تونس میں قبرستان میں شادی کی تقریب پرعوام مشتعل واقعے کی انکوائری شروعتونس کی مشرقی گورنری المھدیہ میں ایک قبرستان میں شادی کی تقریب وائرل ہونے کے بعد عوامی اور مذہبی حلقوں میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ دوسری طرف پراسیکیوٹر

کورونا وائرس: پاکستان میں ایک روز میں 118 ہلاکتیں، انڈیا میں جولائی سے نئی ویکسین کے تجربات، متعدد امریکی ریاستوں میں پابندیاں سخت - BBC Urduدنیا میں کورونا کے متاثرین کی تعداد ایک کروڑ سے زیادہ ہو گئی ہے جبکہ پاکستان میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ ہے۔ یورپی یونین نے ان 14 ممالک کی فہرست جاری کر دی ہے جن کے شہریوں کو یکم جولائی سے یورپ میں داخلے کی اجازت ہوگی۔ دوسری جانب انڈیا میں جولائی سے مقامی طور پر تیار کی گئی ویکسین کے انسانی تجربات شروع کیے جائیں گے۔