آغا حسن عابدی: ’عالمی اسلامی بینک‘ کے خواب سے بی سی سی آئی تک - BBC News اردو

آغا حسن عابدی: بی سی سی آئی کی بنیاد رکھنے والے پاکستانی بینکار جن پر ایٹمی پروگرام اور فلسطینی حریت پسندوں کی معاونت کا الزام لگایا گیا

05/08/2020 12:02:00 PM

آغا حسن عابدی: بی سی سی آئی کی بنیاد رکھنے والے پاکستانی بینکار جن پر ایٹمی پروگرام اور فلسطینی حریت پسندوں کی معاونت کا الزام لگایا گیا

پانچ اگست اس پاکستانی بینکار کا یومِ وفات ہے جس نے متحدہ عرب امارات کے سربراہ شیخ زید بن سلطان النہیان کی مالی اعانت سے بینک آف کریڈٹ اینڈ کامرس انٹرنیشنل کے نام سے ایک عالمی بینک کے قیام کا ڈول ڈالا اور جس کا خواب تھا کہ وہ ورلڈ بینک کی طرز پر ایک عالمی اسلامی بینک قائم کریں۔

سہگل خاندان سے تعلقات اور یونائیٹڈ بینک کا قیامحبیب بینک میں ملازمت کے دوران آغا حسن عابدی کے تعلقات پاکستان کی کاروباری شخصیات سے استوار ہونا شروع ہوئے جن میں سہگل خاندان کا نام سرفہرست تھا۔ 1959 میں حبیب خاندان نے سہگل خاندان کو ایک ایسے کاروباری معاملے میں بینک گارنٹی دینے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا جس میں حبیب خاندان خود بھی دلچسپی رکھتا تھا۔

راولپنڈی میں 6 سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کرنے والا معلم گرفتار - ایکسپریس اردو میران شاہ میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے دوران دو جوان شہید - ایکسپریس اردو نواز شریف کی ٹوئٹر پر آمد: پہلا پیغام اور ردعمل - BBC News اردو

آغا حسن عابدی نے حبیب خاندان کو ایسا کرنے سے باز رکھنا چاہا مگر ان کی ایک نہ سنی گئی نتیجہ حبیب بینک سے آغا حسن عابدی کی علیحدگی کی صورت میں نکلا۔سہگل خاندان نے آغا حسن عابدی کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا اور یوں سات نومبر 1959 کو یونائیٹڈ بینک کا قیام عمل میں آ گیا جس کے لیے سرمایہ سہگل خاندان نے فراہم کیا تھا اور اس کے پیچھے ذہن آغا حسن عابدی کا تھا۔

پاکستان کے بینکنگ کے افق پر اگلے 10-12 برس یونائیٹڈ بینک کے عروج کے برس تھے۔ کراچی، لاہور، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ ہی نہیں چھوٹے چھوٹے شہروں میں بھی اس کی شاخیں کھلتی چلی گئیں۔ مغربی پاکستان کے ساتھ ساتھ مشرقی پاکستان میں بھی یونائیٹڈ بینک اپنی ساکھ بنا رہا تھا۔ سہگل گروپ کی سرپرستی کی وجہ سے پاکستان کا دیگر کاروباری حلقہ بھی یونائیٹڈ بینک پر اعتماد کر رہا تھا۔

1970 کے لگ بھگ ملک بھر میں یونائیٹڈ بینک کی 912 شاخیں کھل چکی تھیں جن میں سے 224 شاخیں مشرقی پاکستان میں تھیں۔ بیرون ملک قائم ہونے والی 24 برانچیں ان کے علاوہ تھیں۔مشرقی پاکستان میں آغا حسن عابدی کو صالح نقوی کی رفاقت میسر آئی جو مغربی پاکستان سے تبادلہ ہو کر مشرقی پاکستان بھیجے گئے تھے مگر انھوں نے اپنی صلاحیتوں سے مشرقی پاکستان کا کاروباری میدان فتح کر لیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہBBC/Wikimedia Commons،تصویر کا کیپشنکراچی کی آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع اس عمارت میں کئی برسوں تک بی سی سی آئی کے دفاتر موجود تھے۔ (بائیں) آج بھی یہ عمارت ایک نجی بینک کی ملکیت ہےایک عالمی بینک کے قیام کا خواب1971 میں سقوط ڈھاکا کے بعد یونائیٹڈ بینک کو مشرقی پاکستان سے بوریا بستر سمیٹنا پڑا۔ صالح نقوی سقوط ڈھاکا سے بہت پہلے مغربی پاکستان آ چکے تھے۔ اب آغا حسن عابدی نے ایک عالمی بینک کے قیام کے خواب دیکھنے شروع کیے۔ یکم جنوری 1974 کو جب حکومت پاکستان نے پاکستان کے تمام بینک قومی تحویل میں لیے تو آغا حسن عابدی اس بینک کے قیام کی تیاری مکمل کرچکے تھے۔

انھوں نے نو آزاد متحدہ عرب امارات کے سربراہ شیخ زید بن سلطان النہیان کا اعتماد حاصل کیا اور ان کی مالی اعانت سے بینک آف کریڈٹ اینڈ کامرس انٹرنیشنل کے نام سے ایک عالمی بینک کے قیام کا ڈول ڈال دیا۔ اس بینک کو لکسمبرگ میں رجسٹر کروایا گیا تھا۔آغا حسن عابدی کا خواب تھا کہ وہ ورلڈ بینک کے طرز پر ایک عالمی اسلامی بینک قائم کریں جس کے سرمایہ کار مسلمان ہوں۔ وہ چاہتے تھے کہ یہ بینک کمزور مسلمان ممالک کو بہت کم شرح سود پر قرض دے کر انھیں معاشی طور پر مضبوط کرے اور تیسری دنیا کے محروم، پسماندہ اور کم مراعات یافتہ اقوام بھی ترقی یافتہ اقوام کے دوش بدوش آگے بڑھ کرسکیں۔

آغا حسن عابدی، شیخ زید بن سلطان النہیان کی اعانت سے اپنے بینک کو ترقی دیتے چلے گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے 72 ممالک میں بینک آف کریڈٹ اینڈ کامرس انٹرنیشنل (بی سی سی آئی) کی چار سو سے زیادہ شاخیں قائم ہو گئیں، اس کے ملازمین کی تعداد سولہ ہزار تک پہنچ گئی اور یہ دنیا کا ساتواں بڑا بینک بن گیا۔

ایف اے ٹی ایف: حکومت کا قانون سازی کا دفاع، اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کل - BBC News اردو اپوزیشن کی اے پی سی کل ہوگی، حکومت کے خلاف ملک گیر تحریک شروع ہونے کا امکان - ایکسپریس اردو بزنس ٹائیکون کا 8 ارب ڈالر کی دولت خیرات دینے کا عمل حقیقی امیری ہے: وزیراعظم

بی سی سی آئی کہنے کو صرف ایک بینک تھا مگر اس کے اہداف بہت اعلیٰ تھے۔ اس نے ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والے ممالک کی بہبود کے لیے مختلف منصوبوں پر کام شروع کیا۔آغا حسن عابدی نے سب سے پہلے تعلیم کے فروغ پر توجہ دی اور کراچی سے لے کر صوابی تک متعدد ادارے قائم کیے جن میں کورنگی اکیڈمی، فاسٹ یونیورسٹی اور غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی سرفہرست تھے۔ بے گھر افراد کے لیے اورنگی پائلٹ پروجیکٹ اور نادار فن کاروں کی فلاح و بہبود کے لیے انفاق فاؤنڈیشن جیسے اداروں کا قیام ساری دنیا کے لیے حیران کن تھا۔ بی سی سی آئی نے صحت عامہ پر بھی خرچ کرنا شروع کیا اور کراچی میں ایس آئی یو ٹی اور لیڈی ڈفرن ہسپتال کو بھی خطیر عطیات سے نوازا۔

،تصویر کا ذریعہAmazonبی سی سی آئی کی ترقی کا راز، قدرت اللہ شہاب کی زبانیآغا حسن عابدی کی کامیابیاں اور کامرانیاں افسانوی حیثیت اختیار کرتی جا رہی تھیں، مگر مغربی دنیا ان کی کامیابیوں کو رشک سے زیادہ حسد کی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔قدرت اللہ شہاب، شہاب نامہ میں لکھتے ہیں، 'اکتوبر 1981 میں لندن میں وہاں کے ایک مشہور رسالے نیو اسٹیٹسمین (New Statesman) کا ایک شمارہ میری نظر سے گزرا۔ اس کے سرورق پر آغا حسن عابدی کی بڑے سائز کی رنگین تصویر چھپی تھی جس کے نیچے یہ کیپشن درج تھا: ہائی اسٹریٹ کا بینکر، جو حکومتیں خرید لیتا ہے۔'

'رسالے کے اندر بی سی سی آئی کے تعلق سے آغا حسن عابدی کے بارے میں چار صفحات کا طویل مضمون بھی درج تھا۔ مضمون کا فقرہ فقرہ حسد، رقابت، خوف اور نفرت کی بھٹی میں بجھا ہوا تھا، جس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ صاحب مضمون کے مطابق بی سی سی آئی ایک ایسا بینک تھا جو خطرناک تیز رفتاری سے دنیا کے گوشے گوشے میں پھیل رہا تھا۔'

قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں: 'بی سی سی آئی کی ترقی اور وسعت کی یہ تیز رفتاری انگلستان کے اونگھتے ہوئے سست رو، سرد مہر، بے حس اور سرخ فیتوں میں جکڑے ہوئے غیر مثالی بینکوں کے لیے ایک زبردست خطرے کا نشان بن گئی تھی۔'وہ مزید لکھتے ہیں: 'یہ مضمون پڑھ کر مجھے کرید لگ گئی کہ میں آغا صاحب سے مل کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کروں کہ ان کی ترقی کا اصل راز کیا ہے۔'

مزید پڑھ: BBC News اردو »

ویڈیو: چھوٹی عمر کی ایک بڑی مصورہ

لائبہ نے فن کسی سے نہیں...;

'شادی ہالز اور ریسٹونٹس کھولنے کی اجازت کے حوالے سے صوبوں سے مشاورت جاری ہے'

سینیٹ کے خصوصی اجلاس میں کشمیر کے حوالے سے تحریک پیشسینیٹ کے خصوصی اجلاس میں کشمیر کے حوالے سے تحریک پیش Islamabad YoumeIstehsal Kashmir India Special Session SenatePakistan 5thAugustBlackDay IIOJKUnderSiege kashmir KashmirSeigeDay UN pid_gov UN KashmiriWantFreedom Pakistan

ارطغرل کے 'ترگت الپ' سے وسیم بادامی کے معصومانہ سوالات -دنیا بھر میں مقبول ترک ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی کے اہم ترین کردار ‘ترگت الپ’ پہلی بار پاکستانی چینل کےمہمان بن گئے۔ بڑی عید پر سپراسٹار شاہدآفریدی اور وسیم بادامی کے ساتھ صرف اے آر وائی نیوز کی زینت بن کر پاکستانیوں سے مخاطب ہوئے۔ ترگپ الپ سے سینئراینکر پرسن اور پروگرام الیونتھ آور کے …

اسٹیٹ بینک نے بینکوں کے اوقات بحال کردیئےاسٹیٹ بینک نے بینکوں کے اوقات بحال کردیئے SamaaTV

انٹر بینک میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر مہنگا ہو گیاکراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن )انٹر بینک مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہو گیاہے ۔تفصیلات کے مطابق انٹر بینک مارکیٹ میں کاروبار کے

مقبوضہ کشمیر کا آبادیاتی تناسب تبدیل کرنا عالمی قوانین کے منافی ہے،وزیرخارجہمقبوضہ کشمیر کا آبادیاتی تناسب تبدیل کرنا عالمی قوانین کے منافی ہے،وزیرخارجہ مزید پڑھیں : ARYNewsUrdu Kashmir 5thAugustBlackDay